بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

رام رام ستے کہنا کفر ہے یا نہیں

سوال

زید فرضی نام لے کر کہے کہ اگر تم کو مجھ پر یقین نہیں توھند (فرضی نام) سے پوچھ لو، جب کہ دوسرا شخص جو ھند کو اچھا نہیں سمجھتا( کیونکہ وہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھتی )۔ جواب میں کہتا ہے: میں اس بات کو آگ لگا دوں گا( یعنی وہ کسی کام کو نہ کرنے کے لیے یہ تکیہ کلام استعمال کرتا ہے) تو زید طنزاً کہتا ہے: اب رام رام ستے کرو گے ؟ یہ سن کر وہ شخص زید سے پوچھتا ہےتم نے کیا کہا؟ زید دوبارہ کہتا ہے “رام رام ستے ” اس پر وہ شخص زید کو تنبیہ کرتا ہے کہ ایسا کہنا گناہ ہے توبہ کرو۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا زید کا یہ جملہ کلماتِ کفر کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ “رام” ہندو مذہب کے مطابق ایک معبود ( بھگوان) کا نام ہےاور “رام رام ستے” کا مطلب ہوتا ہے “رام سچا ہے” جو کہ ہندو مذہب میں وفات کے وقت کہا جاتا ہے۔

جواب

“رام رام ستے “یہ کفار کا شعار ہےاورایسے کلمات کہنے سے مکمل اجتناب لازم ہے۔ زید نے اگر مذکورہ الفاظ صرف طنزاً کہے ہیں اور ان الفاظ کے معنی کے مطابق عقیدہ رکھتے ہوئے نہیں کہے۔ تو کفر لازم نہیں آئے گا۔لیکن اس قبیح عمل پر توبہ و استغفار کریں۔
شرح الفقه الاكبر
وفى التتمة: من أهان الشريعة أو المسائل التى لا بد منها،  كفر
 رد المحتار(4/ 224) سعید
قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس