فرقہ روافض میں سےکوئی شخص اپنےہم عقیدہ مرحومین کےایصالِ ثواب کیلئےصدقہ خیرات اورفاتحہ خوانی وغیرہ کرےتوان مرحومین کوثواب پہنچےگایانہیں؟
قرآن وسنت کی رُوسےنیک اعمال کرکےمُردوں کوان کاثواب پہنچانادرست ہےبلکہ باعثِ اجر ہےاوراس سےان کوثواب پہنچتاہےلیکن اس کےلئےچندبنیادی شرائط ہیں مثلاً
نمبر ۱۔جوشخص ایصال ِثواب کرے وہ مسلمان ہواورتمام ضروریاتِ دین کامعتقدہو۔کسی کفریہ عقیدےکاقائل نہ ہو۔
نمبر ۲۔میت کاانتقال اس حال میں ہوا ہوکہ وہ بھی مسلمان ہو،تمام ضروریاتِ دین کو مانتاہواورکسی کفریہ عقیدےکا معتقد نہ ہو ۔
نمبر ۳۔ان نیک اعمال کامقصدصرف اورصرف ثواب کاحصول ہو(کوئی دنیوی غرض نہ ہو)۔
مذکورہ تمہیدکےبعدسوال کاجواب یہ ہےکہ جس رافضی کےعقائدکفریہ ہوں مثلاًحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کےصحابی ہونےکامنکرہویایہ کہتاہوکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سےوحی پہنچانےمیں غلطی ہوئی یاقرآن کریم میں تحریف کامعتقدہویاحضرت علی رضی اللہ عنہ کومعبودسمجھتاہویاحضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پرتہمت لگاتاہویاکسی اورکفریہ عقیدےکامعتقدہواوراس کاانتقال بھی اسی حال میں ہواہو اسےاپنےیاکسی اورکے نیک کام کا آخرت میں کوئی فائدہ اورثواب نہیں پہنچتالیکن جوکسی کفریہ عقیدےکامعتقدنہ ہوبلکہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاءثلاثہ سےافضل سمجھتا ہووغیرہ وہ کافرنہیں بلکہ گمراہ ہےاس کےلئےاگرکوئی ایساشخص ایصالِ ثواب کرےجوخودبھی مسلمان ہوتواس کوثو اب پہنچےگا۔
الجامع السنن لمحمد بن عيسى الترمذي(م:279هـ)(5/132) دارالغرب الإسلامي بيروت
3101 – عن علي، قال: سمعت رجلا يستغفر لأبويه وهما مشركان، فقلت له: أتستغفر لأبويك وهما مشركان؟ فقال: أوليس استغفر إبراهيم لأبيه وهو مشرك، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزلت: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113]، هذا حديث حسن۔
ردالمختار،العلامةابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(2/141)رشيدية کوئتة
أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع۔
الفتاوى الهندية(2/264)دارالفكر
ويجب إكفار الروافض في قولهم برجعة الأموات إلى الدنيا، وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإله إلى الأئمة وبقولهم في خروج إمام باطن وبتعطيلهم الأمر والنهي إلى أن يخرج الإمام الباطن وبقولهم إن جبريل- عليه السلام- غلط في الوحي إلى محمد- صلى الله عليه وسلم- دون علي بن أبي طالب- رضي الله عنه-وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الإسلام وأحكامهم أحكام المرتدين۔
مرقاة المفاتيح،لملا القاري علي بن(سلطان)محمد(م:1014هـ)(7/3027)دارالفكر بيروت
قلت: وهذا في غير حق الرافضة الخارجة في زماننا، فإنهم يعتقدون كفر أكثر الصحابة، فضلا عن سائر أهل السنة والجماعة، فهم كفرة بالإجماع بلا نزاع۔