بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ذہنی مریض آدمی کا طلاق کے الفاظ کاادراک رکھتے ہوئے طلاق دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اس مسئلہ کے بارےمیں کہ شخص ِمسمیٰ گلزار احمد جو ہمیشہ سے پاگل پن زندگی میں ایام گزار رہا ہے ،آس پاس کے تمام لوگ اسکی حالت کے گواہ ہیں۔ کبھی گالیاں بکتا ہے کبھی ماں باپ بہن کے سامنے جسم کے تینوں کپڑے اُتار کر پھینک دیتا ہے کیونکہ ذہنی اعتبار سے ٹھیک نہیں ہوتے اور کسی وقت بالکل صحیح ہوتے ہیں ،یہ حالت اس کی ہمیشہ رہتی ہے۔ نام گلزار احمد ولد نور محمدآف وجن شریف ،حالیہ مو جود رہائش 25 کھال نزد بستی برَّا کے جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔مذکور گلزار احمد گزشتہ دنوں اپنی بیوی سے جھگڑتے جھگڑ تےاُٹھ کھڑا ہوا اور تین بار کہا”میکوں رَن طلاق، میكوں رَن طلاق ،میکوں رَن طلاق “بالفاظ صریح طلاق مغلظہ بالثلٰثہ نعوذ بالله من ذلك ،لا حاجۃ فیہ یعنی گنجائش بھی نہیں رہی تین بار طلاق کہی گئی ہے مگر پاگل رہنے کی وجہ سے اسکی طلاق مضر نکاح نہیں ہے۔

جواب

ذہنی مریض کی دی ہوئی طلاق کا حکم

اگرمذکورہ شخص کی ذہنی حالت طلاق دیتے وقت اس قدر خراب تھی کہ سوچ سمجھ کر اور اپنے قصد و ارادہ سے بات کہنے اور کام کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی اور اس حالت کی مستندڈاکٹروں نے بھی تصدیق کی ہو تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی ۔تاہم اگر اس کی ذہنی حالت ایسی تھی کہ طلاق کے الفاظ کہنے کا ادراک تھا ،ان الفاظ کی سمجھ بوجھ رکھتا تھا تو اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی۔اور اس کے بعد میاں بیوی دونوں کا اکٹھے رہنا ممنوع ہوگا جب تک تحلیل شرعی نہ ہو جائے ۔
[البقرة: 230]
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
الدر المختار (3/ 240) دار الفكر
 لو زال عقله بالصداع أو بمباح لم يقع
رد المحتار(3/ 240)
(قوله نعم لو زال عقله بالصداع) لأن علة زوال العقل الصداع والشرب علة العلة، والحكم لا يضاف إلى علة العلة إلا عند عدم صلاحية العلة
البحر الرائق  (3/ ۴۳۲)رشیدیہ
 إذا شرب الخمر فتصدع فزال عقله بالصداع فطلق لا يقع لأن زوال العقل مضاف إلى الصداع لا إلى الشراب
الدر المختار (3/ 243)
(لا يقع طلاق ) (والمعتوه) من العته، وهو اختلال في العقل۔۔۔
رد المحتار(3/ 243)
 (قوله وهو اختلال في العقل) هذا ذكره في البحر تعريفا للجنون وقال ويدخل فيه المعتوه. وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير، لكن لا يضرب ولا يشتم بخلاف المجنون اهـ وصرح الأصوليون بأن حكمه كالصبي إلا أن الدبوسي قال تجب عليه العبادات احتياطا. ورده صدر الإسلام بأن العته نوع جنون فيمنع وجوب أداء الحقوق جميعا كما بسطه في شرح التحرير
التاتارخانیۃ(4/392)فاروقیۃ
والمعتوہ من یختلط کلامہ و أفعالہ فیکون ھذا غالباً وذلک غالباً فکانا سواء۔۔۔۔والمعتوہ من یفعل مایفعلہ المجانین  فی الأحانین لکن  عن قصد یقصد فعلہ مع ظہور وجہ الفساد ۔وفی الذخیرۃ :المعتوہ من کان قلیل الفھم ومختلط الکلام وفاسد التدبیر   إلا أنہ لایضرب ولا یشتم
رد المحتار(3/ 305) دار الفكر
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اه  واللہ اعلم
الفتاوى الهندية (1/ 390)
متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق
الدر المختار (3/ 293)
كرر لفظ الطلاق وقع الكل
رد المحتار (3/ 293)
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس