بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ذہنی توازن خراب ہونے کی صورت میں بیوی کوتین طلاق کا میسج بھیجنا

سوال

ایک شخص جو ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری کا شکار ہے جس کانام “بائی پولر”ہے ۔ اس بیماری کا جب مذکورہ شخص پر اٹیک ہوتا ہے تو وہ ذہنی طور پر نارمل نہیں رہتا۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ وہ نشے کا بھی عادی ہے ۔اب اس شخص نے اپنی بیوی کو میسج میں لکھ کر تین طلاقیں دے دیں اور اس کا کہنا یہ ہے کہ میں نے طلاق کا یہ میسج نفسیاتی مرض کے دباؤ کی کیفیت میں کیا جس وقت میرے ذہن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی ۔ اس سے چوبیس گھنٹے پہلے اس نے نشہ بھی کیا تھا۔
مذکورہ شخص کے معالج کا بیان
مریض پر نشے کا اثر چوبیس گھنٹے تک نہیں رہتا بلکہ چار سے چھ گھنٹے تک رہتا ہے اس لیے اگر واقعتاً اس کا ذہنی تواز ن ٹھیک نہیں تھا تو ذہنی توازن کی خرابی کی وجہ نشہ نہیں بلکہ ان کی ذہنی بیماری ہے ۔البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ان کی بیماری میں نشہ کی وجہ سے شدت آجاتی ہےاور نشہ کے بعد اس بیماری سے نکلنے میں تین سے چار دن درکار ہوتے ہیں ،جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ مریض طلاق دیتے وقت اسی بیماری کی حالت میں تھا ۔نیز اس بیماری میں اس قسم کا مریض ایسا میسج کر سکتا ہے ۔
بیوی کا بیان
میرے شوہر نے پہلے فون کر کے تین طلاقیں دیں اور پھر کچھ وقت کے بعد میسج میں بھی تین طلاقیں لکھ کر بھیجیں اور میرے شوہر کو جب اس بیماری کا اٹیک ہوتا ہے تو ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہوتا اور طلاق کے واقعے سے چوبیس گھنٹہ پہلے انہوں نے نشہ کیا اس کے بعد یہ گھر میں ہی رہے دوبارہ انہوں نے نشہ نہیں کیا اور طلاق کا میسج کرتے وقت میں وہاں ان کے پاس موجود نہیں تھی کہ ان کی کیفیت بتا سکوں ۔البتہ جس صبح طلا ق کا میسج کیا اس رات ان کی طبیعت معمول سے زیادہ خراب تھی۔

جواب

ذہنی توازن خراب شخص کا طلاق دینا

واضح رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا وہ سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال کے مطابق جواب لکھنے کا پابند ہوتا ہے اور فتویٰ سے کوئی حرام حکم حلال اور حلال حکم حرام نہیں ہوتا ۔نیزخلافِ واقعہ اور جھوٹ بات لکھ کر جواب حاصل کرنے کا سارا دنیوی و اخروی وبال سائل اور گواہان پر ہوگا۔اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب مندرجہ ذیل ہے
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً طلاق دہندہ کی ذہنی کیفیت نفسیاتی مرض کے دباؤ کی وجہ سے ایسی تھی کہ سوچ سمجھ کر اور اپنے قصد و ارادہ سے کام کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی تھی تو اس حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اب اگر بیوی کو شوہر کے اس بیان پر سابقہ تجربات کی روشنی میں اعتماد ہو تو وہ شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے لیکن اگر اس کو شوہر کی اس بات پر اعتماد نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کے لیے مناسب شرعی تدبیر اختیار کرے۔
الدر المختار (3/ 240) دار الفكر
 لو زال عقله بالصداع أو بمباح لم يقع
رد المحتار(3/ 240)
(قوله نعم لو زال عقله بالصداع) لأن علة زوال العقل الصداع والشرب علة العلة، والحكم لا يضاف إلى علة العلة إلا عند عدم صلاحية العلة
البحر الرائق  (3/ ۴۳۲)رشیدیہ
 إذا شرب الخمر فتصدع فزال عقله بالصداع فطلق لا يقع لأن زوال العقل مضاف إلى الصداع لا إلى الشراب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (3/ 242) دار الفكر
(لا يقع طلاق )۔۔۔ (والمعتوه) من العته، وهو اختلال في العقل۔۔۔تحتہ فی رد المحتار) (قوله وهو اختلال في العقل) هذا ذكره في البحر تعريفا للجنون وقال ويدخل فيه المعتوه. وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير، لكن لا يضرب ولا يشتم بخلاف المجنون اهـ وصرح الأصوليو بأن حكمه كالصبي إلا أن الدبوسي قال تجب عليه العبادات احتياطا. ورده صدر الإسلام بأن العته نوع جنون فيمنع وجوب أداء الحقوق جميعا كما بسطه في شرح التحرير
التاتارخانیۃ(4/392)فاروقیۃ
والمعتوہ من یختلط کلامہ و أفعالہ فیکون ھذا غالباً وذلک غالباً فکانا سواء۔۔۔۔والمعتوہ من یفعل مایفعلہ المجانین  فی الأحانین لکن  عن قصد یقصد فعلہ مع ظہور وجہ الفساد ۔وفی الذخیرۃ :المعتوہ من کان قلیل الفھم ومختلط الکلام وفاسد التدبیر   إلا أنہ لایضرب ولا یشتم
رد المحتار(3/ 305) دار الفكر
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس