بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ذخیرہ اندوزی کرنا

سوال

کیا عام استعمال کا اسٹاک کرنا ہی ذخیرہ اندوزی میں آئے گا جیسے گندم؟ یا تمام اجناس کا اسٹاک کرنا ہی ذخیرہ اندوزی میں آئےگا جیسے تل یا رائی وغیرہ؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

عام و خاص تمام اجناس (کھانےپینےکی اشیاء)میں سےکسی کی بھی ذخیرہ اندوزی قیمت بڑھنے کی لالچ میں اس وقت کرنا حرام ہےکہ جب عامۃ الناس کوان اشیاء کی ضرورت ہو اور وہ بازار میں دستیاب نہ ہوں
ردالمحتار(6/398)سعید
والتقييد بقوت البشر قول أبي حنيفة ومحمد وعليه الفتوى كذا في الكافي، وعن أبي يوسف كل ما أضر بالعامة حبسه، فهو احتكار وعن محمد الاحتكار في الثياب ابن كمال (قوله كتين وعنب ولوز) أي مما يقوم به بدنهم من الرزق ولو دخنا لا عسلا وسمنا در منتقى۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (8/370)رشیدیۃ 
قال: – رحمه الله -. (واحتكار قوت الآدميين والبهائم في بلد لم يضر بأهلها) يعني يكره الاحتكار في بلد يضر بأهلها لقوله – عليه الصلاة والسلام – «الجالب مرزوق والمحتكر ملعون» ولأنه تعلق به حق العامة وفي الامتناع عن البيع إبطال حقهم وتضييق الأمر عليهم فيكره هذا إذا كانت البلدة صغيرة يضر ذلك بأهلها أما إذا كانت كبيرة فلا يكره؛ لأنه حابس ملكه، وتخصيص الاحتكار بالأقوات قول الإمام والثالث، وقال أبو يوسف: كل ما يضر العامة فهو احتكار، بالأقوات كان أو ثيابا أو دراهم أو دنانير اعتبارا لحقيقة الضرر؛ لأنه هو المؤثر في الكراهة، وهما اعتبرا الحبس المتعارف وهو الحاصل في الأقوات في المدة فإذا قصرت لا يكون احتكارا لعدم الضرر، إذا طالت يكون مكروها۔
تکملۃ فتح الملھم(1/410)دارالعلوم کراچی
والذی یبدو لھٰذالعبد الضعیف۔عفااللہ عنہ۔ان حرمۃ احتکار الطعام ثابتۃ بالحدیث من غیرشک۔فکان امراً تشریعیاً معمولاً بہ الی الابد،لان حاجۃ الناس الی الطعام اکثر منھاالی غیرہ،واما احتکارالاشیاءالاخرٰیٰ فیفوض الی رای الحاکم،فان رای فی احتکارھاضرراً شدیداًنظیرالضررفی الطعام:منعہ،والااجازہ،واللہ سبحانہ اعلم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس