ہمارے پیارے نبی ﷺنہ تو بریلوی تھے نہ دیوبندی نہ ان کا کوئی اور فرقہ تھا پھر ہم مسلمان ان فرقوں میں کیوں بٹ گئے ہیں جس کا ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے حکم نہیں دیا ۔ قرآن میں بھی آتا ہے جن لوگوں نے اپنے دین کے حصے کیےاور فرقوں میں بٹ گئے،اے نبی آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں (الانعام 159)اور قرآن میں یہ بھی آتا ہے {واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا}اب ہم کون سی رسی کو پکڑیں ؟
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ متحدہ ہندوستان (برصغیر )پر فرنگی (انگریز)کےتسلط سےقبل یہاں کے سب مسلمان(عوام وعلماء)صرف اہل السنت والجماعت حنفی کہلاتے تھے، دیوبندی، بریلوی اوراہلحدیث وغیرہ کی کوئی اصطلاح وجود میں نہیں آئی تھی۔انگریزوں کی مداخلت کے بعد 1866 میں مسلمانانِ ہند کی دینی ضرورت کے پیش نظر قصبہ دیوبند میں ایک علمی وعملی ادارہ “دار العلوم ” کی بنیاد رکھی گئی، جس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک مقصدیہ تھا کہ فرنگی تسلط کی وجہ سے مسلمانوں میں جو خرابیاں ،دین سے دوری یا دین بیزاری پیدا ہوئیں ہیں اسے ختم کیا جائے، اورجودینی تعلیمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہیں ،جنہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے علماء، فقہاء اورزاہدین کی مشاورت سے مرتب کیا تھا، اس پر نہ صرف خودعمل پیراہوا جائے، بلکہ اس کی صحیح اور اصل شکل کو قائم رکھتے ہوئے اگلی نسلوں تک پہنچانے کی جد و جہد کی جائے ۔اس کے لیے دین کی تعلیم ،تفہیم اور تفکیر کا سلسلہ جاری رکھا ۔
دوسری طرف 1904 میں قصبہ بریلی میں “دار العلوم منظر الاسلام” کے نام سےادارہ قائم کیا گیا، جس کے نتیجہ میں ایک طبقہ تصوف وسلوک اوربعض دیگرمسائل میں اہل السنت والجماعت مسلک حنفی کی راہ اعتدال سے ہٹ کر افراط وتفریط اور غلو فی الدین کاشکارہوگیا،اس طبقہ کے بانی کاتعلق چونکہ بریلی شہر سے تھا؛اس وجہ سے یہ طبقہ بریلوی کہلانے لگا۔
یوں برصغیر پاک و ہند میں بسنے والے حنفی مسلک سے وابستہ مسلمانوں کے دونام مشہورہوگئے ایک شاخ اپنے بانی کی نسبت کی وجہ سے ” بریلوی” کہلائی جانے لگی، اوردوسری شاخ قصبہ دیوبند میں واقع دار العلوم کی طرف نسبت سے “دیوبندی “نام سے مشہور ہوگئی ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیوبندیت کوئی نیا فرقہ یا گروہ نہیں ہے بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ علیہ ہندوستان میں قرآن و سنت کا جو علم لے کر آئے تھے اس فکر،صحابہ کرام کےعملی نمونہ کو اگلی نسل تک پہنچانےکے لیےدیوبندقصبہ میں رہنے والے علماءنے حق ،اخلاص اور راہ اعتدال پر گامزن رہتے ہوئےجو کام کیا اس کی نسبت سے علماء کی جماعت کابس صرف نام اور نسبت ہے ۔ جو حق پر قائم ہیں اور اہل حق کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ عقائد و نظریات اور فروعی مسائل میں قرآن و سنت،حضرات صحابہ کرام ،ائمہ اربعہ میں سے امام ابو حنیفہ ؒ ،امام ابو الحسن اشعریؒ یاامام ابو منصور ماتریدیؒ کی پیروی کرتے ہیں۔یہ نمائندگی اور نسبت ہی دیوبندیت کہلاتی ہے اورحقیقت میں اہلسنت والجماعت کا حقیقی مصداق ہے۔اس سے آگے کچھ بھی نہیں ۔اس لیے اس کو مستقل فرقہ قرار دینا درست نہیں ہے ۔البتہ بریلویت اہلسنت والجماعت کے مقابل ایک بدعتی فرقہ بن گیاہے ۔
حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک چھوٹے سے کتابچے” اکابر دیوبند کیا تھے”؟ میں ایک سوال “اکابر دیوبند کیا تھے ” کے جواب میں مختصراً یوں فرماتے ہیں کہ وہ خیر القرون کی یاد گار تھے ، سلف صالحین کا نمونہ تھے ،اسلامی مزاج و مذاق کی جیتی جاگتی تصویر تھے ۔ تفصیل کے لیے کتاب ملاحظہ فرمایئے۔لہٰذا آپ کو چاہیئے اس جماعت کی پیروی کریں ،اسی میں نجات ہے۔(صفحہ نمبر 87)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (9/ 3876)
قال صلى الله عليه وسلم : أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم. (رواه مسلم)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 258)
عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة كلهم في النار إلا ملة واحدة قالوا ومن هي يا رسول الله قال ما أنا عليه وأصحابي