بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دھوکے اور غلط بیانی کے ذریعہ حاصل کی گئی رقم کا حکم

سوال

کسی نے مجھے موبائل خرید کردینے کے لیے بیس ہزار دیئے، میں نے وہی موبائل اٹھارہ ہزار کا لے لیا اور دوہزار بچا کر خود رکھ لیے۔ کیا اسے یہ دوہزار واپس دینے ہوں گے یا نہیں؟ کیا یہ سود تو نہیں، راہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسؤلہ میں اضافی دو ہزار روپے آپ نے غلط بیانی اور دھوکے کے ذریعے حاصل کیے اس لیے یہ رقم شخص مذکور ( جس کے لیے موبائل لیا ہے) کو واپس کرنا ضروری ہے، آپ کے لیے یہ رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں۔
فی شرح المجلۃ سلیم رستم لباز، الحادی العشر فی الوکالۃ  1467 (789)
اذا اشترط الا جرۃ فی الوکالۃ واوفاھا الوکیل استحق الاجرۃ وان لم تشرط ولم یکن الوکیل ممن یخدم بالاجرۃ کان متبرعًا فلیس لہ ان یطالب الاجر واما اذا کان ممن یخدم بالاجرۃ فلہ اجرہ مثلہ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس