بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دکاندار کا گارنٹی رسید کے مطابق چیز تبدیل نہ کرنے پر گاہک کا عدالت میں دعوی کرکے اخراجات کا مطالبہ کرنا

سوال

میں نے دکاندار سے ایک سوٹ دو ہزار کا خریدا ، دکاندار نے گارنٹی رسید دی، میں نے عید والے دن وہ سوٹ پہنا، آدھا دن گزرجانے کے بعد پسینے کی وجہ سے سوٹ کا رنگ خراب ہونے لگا اور بعض جگہ سے بالکل بدل گیا، دوستوں میں بیٹھا تو دوستوں نے مذاق اڑانا شروع کردیا، مجھے بہت شرمندگی ہوئی جس سے مجھے دماغی اذیت اٹھانی پڑی۔
اس گارنٹی رسید کے مطابق میں تین دن کے اندر اندر واپس کروانے گیا تو مجھے برا بھلا کہہ کر واپس بھیج دیاگیا اور میرا سوٹ واپس نہ کیا جوکہ قانونی طور پر خریدار کاحق ہوتاہے۔
قانونی چارہ جوئی کے لئے میں نے ایک وکیل لیا، اس نے دکاندار کو نوٹس بھیجاکہ میرے موکل کو جوبھی پریشانی آپ لوگوں سے ہوئی اس کو دورکیاجائے لیکن انہوں کچھ نہیں کیا، میرا عید کادن بھی خراب ہوا، دوستوں کے سامنے شرمندگی بھی ہوئی اور وکیل کو فیس بھی ادا کرنی پڑی یہ سب دکاندار کی وجہ سے ہوا ، لہذا اب دکاندار ہی ان سب اخراجات کو جو اس کی وجہ سے برداشت کرنے پڑی ہیں اداکرےاور مجھے جو دماغی طور پر اذیت دی گئی اور شرمندگی ہوئی اس کا بھی ہرجانہ ادا کرے۔اس پر میں نے عدالت میں دعوی دائر کر رکھا ہے جس میں دوہزارسوٹ کی قیمت، ایک لاکھ دماغی اذیت وشرمندگی کے ہرجانہ، دس ہزار وکیل کی فیس ودیگر چارچز یعنی ٹوٹل: ایک لاکھ بارہ ہزار کا دعوی کیا ۔ اس معاملہ میں شریعت کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئلہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ
الف۔ گاہک کےلئے گارنٹی رسید کے مطابق سوٹ دکاندار کو واپس کرکے اس کی اداکردہ قیمت وصول کرنا جائزہے۔
ب۔ گاہک کےلئے دکاندار سے وکیل کی فیس اور دیگر اخراجات وصول کرنے کےبارے میں حکم یہ ہے کہ اگر گاہک نے قانونی چارہ جوئی کرنے سے پہلے مذکورہ سوٹ واپس کرنے کی مکمل کوشش کی اور جس قدر تدابیر اختیار کرنا اس کی وسعت میں تھا وہ سب اختیار کیں ، لیکن ان سب کے باوجود وہ ناکام ہوا اور مجبورا قانونی چارہ جوئی کے لئے وکیل سے رابطہ کیا لیکن پھر بھی ناکام ہوا اور بالآخر عدالت تک جانا پڑا تو ایسی صورتِ حال میں اس کےلئے اپنے حقیقی اخراجات وصول کرنے کی گنجائش ہے (کما فی امداد الفتاوی3/123،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی) لیکن اگر بلا مجبوری (اپنی وسعت کے مطابق کوشش کئے بغیر) قانونی چارہ جوئی کی ہے تو یہ خرچہ دکاندار سے لینا درست نہیں۔
ج۔ ذہنی اذیت اور دوستوں میں بے عزتی کی وجہ سے گاہک کے لئے کسی قسم کے ہرجانہ کا دعوی اور مطالبہ کرنا شرعا درست ہیں۔
سنن الترمذي، أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي(م: 279هـ)(4/ 36)بيروت
إن الله لا يجمع أمتي، أو قال: أمة محمد صلى الله عليه وسلم، على ضلالة
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(4/ 364) سعيد
وفي شرح البيري عن المبسوط أن الثابت بالعرف كالثابت بالنص اه
رد المحتار (4/ 61)سعيد
إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

3

/

56

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس