نمبر۱۔ ایک پلاٹ کی رجسٹری ایک بہن اور بھائی کے نام ہے۔ جو دونوں نے اپنی ذاتی محنت سے کما کر جگہ خریدی ہے یہ ان کو وراثت سے نہیں ملی جبکہ بھائی نے آٹھ مرلہ ۲۱۵ مربع فٹ میں تعمیر کروالیا تھا جبکہ بہن نے اس کے کافی دیر کے بعد پانچ مرلہ تعمیر کروایا تھا اور رجسٹری کے مطابق جگہ دونوں بہن بھائی کے درمیان برابر ہے۔ ان دونوں بھائی بہن کے انتقال کے بعد ان کے وارثان کے پاس رجسڑی کے علاوہ کوئی ثبوت تحریری طور پر موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے وارثان کو شک و شبہات ہیں۔ شریعت کے مطابق بہن کابھائی کے حصہ میں جو بقایا حصہ ہے دو مرلہ بہن کی بیٹی کا ہے کہ نہیں۔
نمبر۲۔ بہن کے ورثاء میں اکلوتی بیٹی ہے۔ اور ماں نے اس کو ۵مرلہ میں گھر بنوا کے دیا اور اس گھر کی ملکیت اپنی بیٹی کو عرصہ ۵۰ سال کے لیے دے دی ہے اور جس کے گواہ بھی موجود ہیں۔ اس گھر کے متعلق کوئی بھی مسائل ہوں جیسے کہ ٹیکس بل توڑ پھوڑ ایکسڑا کی تعمیر وغیرہ بیٹی ہی کررہی ہے اور آج تک کروارہی ہے اس دوران دونوں بہن بھائی کے انتقال کے بعد مرحومہ کے بھائی کا بیٹا مرحومہ کی بیٹی سے ان کی وراثت سے حصہ کا مطالبہ کررہا ہے اور مرحومہ کی باقی بہنوں کے بچوں کو بھی اکسارہا ہے۔ جبکہ انہوں نے مرحومہ کی جائیداد سے حصہ کے مطالبہ کرنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ انہوں نے کہا کہ مرحومہ اپنی زندگی میں اپنی بیٹی کوگھر کا قبضہ اور اس کی ملکیت دے گئی ہے۔
نمبر۳۔رجسٹری کے مطابق مرحومہ اور مرحوم کے درمیان برابر کی تقسیم ہے جبکہ مرحوم نے آٹھ مرلہ ۲۱۵ مربع فٹ میں گھر بنوالیا جس میں مرحومہ کا حصہ بھی رجسٹری کے مطابق ہے جبکہ دونوں کے ورثاء کے پاس اس کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے۔ مرحوم کا بیٹا کہتا ہے کہ ہمارا گھر تو آٹھ مرلہ ۲۱۵ مربع فٹ میں ہے جبکہ مرحومہ کی بیٹی کا پانچ مرلہ میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مرحوم کی جانبدار سے مرحومہ کی بیٹی کا حصہ جو بقایا ہے نکلتا ہے کہ نہیں؟
صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ باقی مانندہ ڈیڑھ مرلہ حصے کے بارے میں بہن بھائی کی طرف سے کوئی صراحت نہیں ہے، جس سے یہ معلوم کیا جائے کہ بہن نے بھائی کو اپنا حصہ ہبہ کیا یا عوض لے کردیا ہے یا نہیں۔ اس لیے اس بارے میں ورثاء کے لیے بہتر یہی ہے کہ آپس میں مصالحت کے ذریعے سے معاملہ حل کیا جائے۔ اگر فریقین میں مصالحت نہ ہوپائے تو شرعی اصول کے مطابق مرحوم بھائی کے ورثاء اگر اضافی ڈیڑھ مرلہ کی ملکیت کا دعوٰی کررہے ہیں تو ان کے ذمہ شرعی گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو دوسرے فریق پہ قسم آئے گی اور اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے کہ گواہان کی پیشی یا قسم کا مطالبہ کسی معتبر پنچائیت یا عدالت کے ذریعے ہونا لازم ہے۔
نمبر۲۔ البتہ واضح رہے کہ بہن نے اپنی زندگی میں بیٹی کو جتنا حصہ مالکہ بنا کر قبضہ کرکے دیا ہے وہ بیٹی اس حصہ کی مالکہ بن گئی۔ اس حصے میں اس کے ساتھ کوئی اور وارث شرعاً حقدار نہیں ہے۔
نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ(4/462) دار الکتب العلمیۃ
حدیث قال علیہ السلام: الصلح جائز بین المسلمین، الا صلحا احل حرام او حرم حلالا: قلت : روی من حدیث ابی ھریرۃ: ومن حدیث عمرو بن عوف۔
مختصر القدوری (124)دارالکتب العمیۃ
الھبۃ: تصح بالایجاب والقبول وتتم القبض۔
ردالمحتار(6/769) سعید
ان شرط الا رث وجود الوارث حیا عند موت المورث۔
الدرالمختار (6/780) سعید
(و) الثانی ( ان من ادلی بشخص لا یرث معہ) کابن الابن لا یرث مع الابن۔