بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دو سال کے بچے کو مسجد میں لے جانا

سوال

دوسال کا بچہ ہے ، جماعت کے دوران وہ اپنے باپ (امام مسجد ) کے آگے سے گزرتا ہے اور مصلے پر کھیلتا ہے تو نمازِ جماعت اور نمازیوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

دو سال کے بچے کو مسجد میں لانا ممنوع ہے،لہٰذا امام صاحب کو چاہیئے کہ بچے کو مسجد میں ساتھ نہ لائیں، البتہ بچے کے امام کے آگے سے گزرنے سے امام ،اور مقتدیوں کی نماز فاسد نہیں ہوتی۔
الدر المختار (1/ 656)ايچ ايم سعيد
ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره
رد المحتار (1/ 656)ايچ ايم سعيد
(قوله ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري ” مرفوعا «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم
المبسوط للسرخسي (1/ 191) دار المعرفة – بيروت
(ولنا) حديث أبي سعيد الخدري – رضي الله تعالى عنه – قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: «لا يقطع الصلاة مرور شيء وادرءوا ما استطعتم»
        مأخذہ: فتای رحیمیہ(120/9)دارالاشاعت۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس