واضح رہے کہ اگر صرف دو تولہ سونا ہے، اس کےعلاوہ نقدی، چاندی یا مالِ تجارت میں سے کچھ بھی نہیں ہے تودو تولے سونے پرفريضہ مالیہ( زکوٰۃ )واجب نہیں ہوگی، اس لیے کہ سونے پرفريضہ مالیہ ( زکوٰۃ ) واجب ہونے کے لیے سونے کا ساڑھےسات تولہ ہونا شرعاً ضروری ہے، لیکن اگر سونے کے ساتھ ملکیت میں دیگر اموال زکوٰۃ میں سے بھی کوئی چیز ہو مثلاً کچھ نقدی ہو چاہے بہت معمولی ہی کیوں نہ ہو تو اس صورت میں اس سونے اور نقدی دونوں پر زکوٰ ۃ واجب ہوگی۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 16) دار الكتب العلمية
أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم
الدر المختار (2/ 295) دار الفكر
(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة)
رد المحتار (2/ 295) دار الفكر
(قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه