ایک بندےکی تنخواہ چوبیس ہزار ہےجوکہ فی دن آٹھ سو روپےہے،جوکہ چوبیس گھنٹوں پرتقسیم کرکے فی گھنٹہ تینتیس روپےبنتےہیں ۔اب اگرایک بندہ دو گھنٹےلیٹ آتاہےتواس کی کٹوتی کتنی ہونی چاہیئے؟آیایہ جائزبھی ہے؟
نمبر۱۔کٹوتی کادارومدارآپ کےآپس کےمعاہدےپرہے،آپ کاادارےکےساتھ کیامعاہدہ ہواہے؟ وضاحت کریں۔
نمبر۲۔کیاادارےکی طرف سےپہلےسےاس طرح کےکچھ اصول وضوابط ہیں؟
نمبر۳۔کٹوتی چوبیس گھنٹوں پرہوتی ہےیادورانِ سبق؟
ادارےکاضابطہ یہ تھاکہ جواستادبغیراطلاع کےپورادن نہ آیاتوفی دن کےحساب سےکٹوتی ہوگی۔ہم نے اطلاع بھی دی تھی اورہم دو گھنٹےلیٹ آئےہیں،مگرکٹوتی پورےدن کی ہوئی ہے۔
اگرادارےکااصول وضابطہ بغیراطلاع پورےدن غیرحاضررہنےپرایک دن کٹوتی کاہے،تومذکورہ صورت میں آپ کی اطلاع دیدینےاورصرف 2گھنٹےلیٹ آنےپرادارےکےلئےپورےدن کی کٹوتی کرناجائزنہیں ہے،بلکہ صرف دوگھنٹےکی کٹوتی کی جاسکتی ہے۔
الدر المختار (4/ 419)سعید
أما لو شرط شرطا اتبع كحضور الدرس أياما معلومة في كل جمعة فلا يستحق المعلوم إلا من باشر خصوصا إذا قال من غاب عن الدرس قطع معلومه فيجب اتباعه وتمامه في البحر
الاشباہ والنظائر(232/1)علمیۃ
ومنہاالبطالۃ فی الدرس،کأیام الأعیاد ویوم عاشوراء،وشہر رمضان فی درس الفقہ لم أرہاصریحۃ فی کلامہم .والمسالۃ علی وجہین :فإن کانت مشروطۃ لم یسقط من المعلوم شيئ،وإلافینبغی أن یلحق ببطالۃ القاضی ،وقد اختلفوفی أخذالقاضی مارتب لہ من بیت المال فی یوم بطالتہ، فقال فی المحیط :إنه یأخذفی یوم البطالۃ لأنہ یستریح للیوم الثانی، وقیل لایاخذ.وفی المنیۃ :القاضی یستحق الکفایۃ من بیت المال فی یوم البطلۃ فی الأصح ،واختارہ فی منظومۃ ابن برہان، وقال: إنہ الأظہر، فینبغی أن یکون کذالك فی المدارس لأن یوم البطالۃ للإستراحۃ ،وفی الحقیقۃ یکون للمطالعۃ
فتاوی محمودیہ (16/576)فاروقیہ وامدادالاحکام(3/527)دارالعلوم زکریا۔