نمبر۱۔زیدنےاپنی بیوی ہندہ کوبحالتِ غضب بھری محفل میں اوّلاًدومرتبہ صریح طلاق دی، اس دوران زیدکی سالی خالدہ نےزیدکےمنہ پرہاتھ رکھ دیاکہ ایسےمت کہو،زیدنےجبراًسالی خالدہ کاہاتھ ہٹاکرپھردومرتبہ طلاق ،طلاق کہا۔دریافت طلب امریہ ہےکہ کیازیدکےاس طرح چارمرتبہ طلاق کالفظ کہنےسےطلاقِ ثلاثہ واقع ہوگئی ہیں؟ اب زیدرجوع کرناچاہتاہےتوہندہ سےرجوع کی کیاصورت ہوگی؟
نمبر۲۔زیدکےہندہ سےچاربچے(دوبیٹےاوردوبیٹیاں) ہیں ان کےنان ونفقہ کاذمہ داراورحضانت کا حقدارکون ہوگاہندہ یازید؟واضح رہےکہ بچوں اوربچیوں کی عمرسات سال سےکم ہی ہے ۔
نمبر۱۔صور ت مسئولہ میں ہندہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اورنکاح ختم ہو گیا ہے ۔لہٰذا اب شرعاً رجوع کی کو ئی گنجائش باقی نہیں رہی اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہو سکتاہے۔ہندہ پر لازم ہے کہ زید سے بالکلیہ علیحدگی اختیار کر ے اور عدت گذرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے ۔
نمبر۲۔بچوں کی پرورش کے سلسلے میں شرعی قانو ن یہ ہے کہ لڑکا سات سال اور لڑکی کےبالغ ہونے تک ان کی پرورش کا حق والدہ کو ہے۔صورت مسئولہ میں چونکہ بچوں کی عمر سات سال سے کم ہےاور بچیاں نا بالغہ ہیں ۔ اس لئے مذکورہ مدت تک وہ ماں کے پاس رہیں گے ؛بشرطیکہ وہ اس دوران بچوں کے كسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے ياكوئی ایسی ملازمت اختیار نہ کرے کہ جس کی وجہ سےزیادہ تروقت باہر گزرے اور بچوں کے حقوق ضائع ہونے لگ جائیں۔ ورنہ ایسی صورت میں ماں کا حقِ پرورش ختم ہوجائیگا ،اس کے بعد پرورش کا حق نانی کو حاصل ہو گا،اور نانی کے نہ ہو نے کی صورت میں حق پرورش دادی کو حاصل ہو گا ۔ مذکورہ مدت کے بعدیہ حق والد کو حاصل ہوگا۔نیز پرورش کے دوران بچوں کا نان نفقہ شرعاً وقانوناً و الد پر لازم ہے۔
الفتاوى الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/541)دارالفكر
أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي…. وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان۔
السنن لأبي داودسليمان بن الأشعث(م: 275هـ)(2/ 283)بيروت
حدثني عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو، أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن ابني هذا كان بطني له وعاء، وثديي له سقاء، وحجري له حواء، وإن أباه طلقني، وأراد أن ينتزعه مني، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنت أحق به ما لم تنكحي»۔
الهداية،أبوالحسن برهان الدين(م: 593هـ)(2/ 291)داراحياءالتراث العربي
ونفقة الأولادالصغارعلى الأب لايشاركه فيهاأحدكمالايشاركه في نفقة الزوجة “لقوله تعالى:{وَعَلَى الْمَوْلُودِلَهُ رِزْقُهُنَّ}[البقرة: 233]والمولودله هوالأب “۔
الفتاوى الهندية (1/ 542)دارالفکر
وبعدمااستغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب۔