بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوطلاقیں دینے کے بعد عدت کے اندر رجوع کرنا

سوال

: ایک شخص نےدوران ِ حمل اپنی بیوی کوایک طلاق دی اورعدت سےپہلےپہلےرجوع کرلیا، کچھ دن گزرنےکےبعدلڑائی جھگڑےکی وجہ سےدوسری طلاق دیدی، اور عدت ہی میں دوگواہوں کے سامنے بغیرحق مہر کےپھررجوع کرلیا، یہ دونوں طلاقیں حمل کےدوران دیں اوراب وضع حمل ہوچکاہے۔ کیایہ دونوں اب اکٹھےرہ سکتےہیں جبکہ ابھی ایک طلاق باقی ہے۔

جواب

عدت کے اندر رجوع

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعی شخصِ مذکور نےاپنی بیوی کوصرف دوطلاقیں ہی دی ہیں، اس سے پہلےیا بعد میں اورکوئی زبانی یاتحریری طلاق نہیں دی اور دورانِ عدت رجوع بھی کرلیاہےتو ایسی صورت میں دونوں میاں بیوی کی حیثیت سےرہ سکتےہیں، ان کانکاح برقرار ہے،البتہ آئندہ اس کے پاس صرف ایک طلاق کاحق باقی ہے اس لیے طلاق کے الفاظ اداکرنے سےہمیشہ بچتےرہنےکی کوشش کرے۔
الفتاوى الهندية (1/ 470)دارالفکر
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔ كذا في العناية شرح الهداية،محمد بن محمد ،الرومي البابرتي (م: 786هـ)(4/158)دار الفكر ۔وفی البنایۃ شرح الہدایۃ، محمود بن أحمد،بدر الدین العینی (م:855ھ)(5/455) دار الكتب العلمية
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس