میں اپنی والدہ کےساتھ اس بات پرجھگڑرہاتھاکہ میری بیوی کوباہرنہ لےجایاکریں، پیچھے میری بیگم کھڑی ساری باتیں سن رہی تھی تومیری والدہ نےغصےمیں آکرکہا “دےدواس کوفیصلہ، میں اس کی شادی کہیں اور کردوں گی”،(تومیں اس وقت اپنےہوش وہواس میں نہیں تھاکیونکہ میں نےپاؤڈر پیا ہوا تھا) تومیں نے کہا: ماں جی! میں دے دیاں گاطلاق،پھرمیں نےغصےمیں اپنےچہرےکارخ اپنی بیگم کی طرف کرکے2مرتبہ کہا” جامیں نےتجھےطلاق دی”۔اگرمیری ان باتوں سےطلاق ظاہرہوتاہےتو پھرآپ جوفیصلہ کریں گےوہ مجھےمنظورہوگا۔
مذکورہ صورتِ حال اگرحقیقت پرمبنی ہےاورآپ نےوہی الفاظ کہےتھےجوسوال میں مذکورہیں نیزاس کےعلاوہ کسی اورموقع پرآپ نےاپنی اس بیوی کوکوئی طلاق نہیں دی تو ایسی صورتِ حال میں آپ کی بیوی پردوطلاقیں واقع ہوئی ہیں۔ جس کاحکم یہ ہےکہ عدت کےدوران آپ کورجوع کاحق حاصل ہےاوراگر رجوع کئےبغیرعدت گزرجائےاوراس کےبعدمیاں بیوی ایک دوسرےسےملناچاہیں تونئےمہرکےعوض تجدیدِ نکاح کرلیں۔واضح رہےکہ اس صورت میں آئندہ طلاق کےسلسلےمیں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگرکسی موقع پر ایک طلاق بھی دیدی توتین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائےگی۔