بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوطلاقوں کامسئلہ

سوال

ایک شخص کی بیوی شوہرسےناراضگی کی وجہ سےاپنےوالدین کےہاں رہ رہی تھی جب شوہراس کولینےکےلئےگیاتوسسرال والوں نےاس شخص کی بیوی کواس کےساتھ جانےکی اجازت نہیں دی،پس اس شخص نےراستےمیں آکربیوی کوفون کرکے کہا تو میرے ساتھ کیوں نہیں آئی ؟لہٰذا میں تجھےطلاق دیتاہوں یہ لفظ دومرتبہ جب کہاتوساتھ والےدوسرےشخص نے موبائل  فون اس  سےچھین کرفون بندکردیا۔نیز اس شخص کی بیوی کو چارمہینےکاحمل بھی ٹھہرا ہوا ہے۔اب سوال یہ ہےکہ مذکورہ شخص کی بیوی کوطلاق ہوئی ہےیانہیں بائن ہوئی یارجعی؟

جواب

اگرسائل کابیان درست ہےکہ اس نے اس وقت  فون پر صرف دو ہی طلاقیں دی ہیں اور اس موقع پریااس سےپہلےیابعد میں کبھی بھی کوئی  اورطلاق نہیں دی ہے تو صورتِ مسئولہ میں اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں اس کاحکم یہ ہےکہ عورت کی عدت کےدوران شوہر بیوی سےرجوع کرناچاہے توکرسکتاہے اورصورتِ مسئولہ میں عورت کی عدت وضع حمل ہےاوررجوع کابہترطریقہ یہ ہےکہ دوگواہوں کےسامنےیہ کہہ دےکہ میں نےاپنی بیوی سےرجوع کرلیااوربیوی کوبھی پیغام پہنچادےکہ میں نےتجھ سےرجوع کرلیااس کےبعدوہ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتےہیں البتہ آئندہ طلاق دینے کےمعاملےمیں سخت احتیاط لازم ہے؛کیونکہ اگرزندگی میں کبھی بھی ایک مرتبہ بھی طلاق دےگاتوبیوی اس پرحرام ہوجائےگی۔ اوردونوں ایک دوسرےکےلئےاجنبی بن جائیں گے۔
الفتاوى الهندية (1/504) دار الكتب العلمية بيروت
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض۔
الهداية، برهان الدين الفرغاني المرغيناني (م:593هـ)(2/394) احياء التراث العربي
” وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض ” لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [الطلاق: 2]…” والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي ” وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.  قال: ” أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة”۔
 مختصر القدوري،أبو الحسين أحمد بن محمد (م:428هـ)،(159)ط:دار الكتب العلمية
والرجعة أن يقول: راجعتك أو راجعت امرأتي أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها شهوة…ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين فإن لم يشهد صحت الرجعة۔
 الجوهرة النيرة،أبو بكر بن علي  (م:800هـ)(2/50) الخيرية
(وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض)إنما شرط بقاؤها في العدة لأنها إذا انقضت زال الملك وحقوقه فلا تصح الرجعة بعد ذلك وقوله رضيت أو لم ترض؛ لأنها باقية على الزوجية بدليل جواز الظهار عليها والإيلاء واللعان والتوارث ووقوع الطلاق عليها ما دامت معتدة بالإجماع وللزوج إمساك زوجته رضيت أو لم ترض وقد دل على ذلك قوله تعالى{ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ }[البقرة: 228]سماه بعلا وهذا يقتضي بقاء الزوجية بينهما۔
المبسوط لمحمد بن أحمد السرخسي(م: 483هـ) (6/ 15)دارالمعرفة
(قال) وعدة الحامل أن تضع حملها ولو وضعت حملها بعد الطلاق بيوم لقوله تعالى {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4] ولأن وضع الحمل أدل على ما هو المقصود وهو معرفة براءة الرحم من الأقراء۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس