ایک شخص کی بیوی شوہرسےناراضگی کی وجہ سےاپنےوالدین کےہاں رہ رہی تھی جب شوہراس کولینےکےلئےگیاتوسسرال والوں نےاس شخص کی بیوی کواس کےساتھ جانےکی اجازت نہیں دی،پس اس شخص نےراستےمیں آکربیوی کوفون کرکے کہا تو میرے ساتھ کیوں نہیں آئی ؟لہٰذا میں تجھےطلاق دیتاہوں یہ لفظ دومرتبہ جب کہاتوساتھ والےدوسرےشخص نے موبائل فون اس سےچھین کرفون بندکردیا۔نیز اس شخص کی بیوی کو چارمہینےکاحمل بھی ٹھہرا ہوا ہے۔اب سوال یہ ہےکہ مذکورہ شخص کی بیوی کوطلاق ہوئی ہےیانہیں بائن ہوئی یارجعی؟
اگرسائل کابیان درست ہےکہ اس نے اس وقت فون پر صرف دو ہی طلاقیں دی ہیں اور اس موقع پریااس سےپہلےیابعد میں کبھی بھی کوئی اورطلاق نہیں دی ہے تو صورتِ مسئولہ میں اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں اس کاحکم یہ ہےکہ عورت کی عدت کےدوران شوہر بیوی سےرجوع کرناچاہے توکرسکتاہے اورصورتِ مسئولہ میں عورت کی عدت وضع حمل ہےاوررجوع کابہترطریقہ یہ ہےکہ دوگواہوں کےسامنےیہ کہہ دےکہ میں نےاپنی بیوی سےرجوع کرلیااوربیوی کوبھی پیغام پہنچادےکہ میں نےتجھ سےرجوع کرلیااس کےبعدوہ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتےہیں البتہ آئندہ طلاق دینے کےمعاملےمیں سخت احتیاط لازم ہے؛کیونکہ اگرزندگی میں کبھی بھی ایک مرتبہ بھی طلاق دےگاتوبیوی اس پرحرام ہوجائےگی۔ اوردونوں ایک دوسرےکےلئےاجنبی بن جائیں گے۔