ایک صاحب مضاربت کاکاروبار کررہےتھے،بہت سےلوگوں نے ان کےپاس براہِ ر است اپنا رأس المال جمع کرایا،جبکہ بعض لوگوں نےایک آدمی کودرمیان میں وکیل بناکررقم جمع کروائی کہ جومنافع ملے گا، وہ آپ پوری دیانت داری سےہمیں لاکردےدیاکریں۔ہوایہ کہ مضارب بہت سارےلوگوں کے پیسے لیکر فرارہوگیا۔ چنانچہ اب جن لوگوں نےوکیل کےواسطہ سےرقم جمع کرائی تھی وہ اس وکیل سےراس المال کی واپسی کامطالبہ کررہےہیں۔کیااس وکیل سےرأس المال کی واپسی کامطالبہ کرنادرست ہے،جبکہ مضاربین کی جانب سےدھوکہ وفرار کی صورت میں وکیل کی جانب سےکوئی ذمہ دار ی نہیں لی گئی۔نیزاگرلوگ زکوٰۃ کی رقم سےاس وکیل کی معاونت کرناچاہیں تاکہ وہ ارباب ِ اموال کی رقم واپس لوٹاسکے توکیاایساکرنادرست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں ارباب الأموال کاوکیل سے رأس المال کی واپسی کامطالبہ کرنا درست نہیں، کیونکہ انہوں نے اس وکیل کومضارب کی جانب سے دھوکہ وفراڈیااس کے فرارہونےکی صورت میں راس المال کاذمہ دار(کفیل)نہیں بنایا ،بلکہ اس کوصرف مضارب کورقم دینے اورمنافع پرقبضہ کرنےکا وکیل اورنائب بنایاتھا۔ اورجب وکیل ذمہ دارنہیں توزکوٰۃ کے اموال سے اس کاتعاون کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے تواسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے،زکوٰۃ لینے کے بعد چاہے تووہ اپنے استعمال میں لائے یابھائی چارہ کے طورپرارباب الاموال کودیدے۔