بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوسری اورتیسری طلاق عدت کےبعددینا

سوال

میں نے اپنی بیوی کو لڑائی کے دوران (جبکہ وہ دو بچوں کی ماں تھی )یہ کہاکہ میں تمہیں طلاق دیتاہوں، اب میراتم سے کوئی تعلق نہیں ،تم میری طرف سے فارغ ہو،(آخری دو الفاظ سے میرا مزید طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا)اس کے ایک ماہ بعد ہم نے بلانکاح رجوع کرلیا،پھردوسال بعد جبکہ اس عرصہ میں تین سے زیادہ ماہواریاں گزر چکی تھیں ، صریح لفظ ِ طلاق کے ساتھ ایک اور طلاق دی ،کچھ دنوں بعد رجوع کرلیااور پھر چار سال کے بعد تیسری طلاق بھی دیدی ، اس کے بعد ایک مفتی صاحب نے یہ بتایاکہ آپ کی دوسری دو طلاقیں نہیں ہوئیں، اس لئے آپ باہمی رضامندی سے آپس میں نکاح کرسکتے ہیں اس لئے ہم نے دوبارہ آپس میں نکاح کرلیااور اس کے بعد حمل ہوا۔کیاہماراآپس میں یہ دوسرانکاح درست ہے ؟اور ان تینوں بچوں کا نسب مجھ سے ثابت ہے ؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ تفصیل اگر درست اور واقع کے مطابق ہے،تو مذکورہ صورت میں جب آپ نےپہلی دفعہ طلاق دی تواس سےایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اورعدت گزرنےکےبعدجوطلاقیں دی گئی ہیں وہ محل نہ ہونےکی وجہ سےواقع نہیں ہوئی لہذا آپ کا دوسرا نکاح بلاشبہ درست ہے ،اور آپ کے تینوں بچوں کا نسب آپ سے ثابت ہے۔
الدرالمختار،العلامة علاءالدين الحصكفي(م: 1088هـ)(3 / 518)سعيد
(وإذاوطئت المعتدة بشبهة)ولومن المطلق(وجبت عدة أخرى)لتجدد السبب وتداخلتا
ردالمحتارتحته،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3 / 518)سعيد
 (قوله:وإذاوطئت المعتدة)أي من طلاق،أوغيره هومنتقى،وكذاالمنكوحة إذا وطئت بشبهة ثم طلقهازوجهاكان عليهاعدة أخرى وتداخلتا  كمامرفي الفتح وغيره(قوله:بشبهة)متعلق بقوله وطئت،وذلك كالموطوءةللزوج في العدةبعد الثلاث بنكاح،وكذابدونه إذاقال ظننت أنهاتحل لي، أو بعدما أبانهابألفاظ الكناية،وتمامه في الفتح، و مفاده أنه لووطئها بعد الثلاث في العدة بلانكاح عالما بحرمتهالاتجب عدة أخرى لأنه زنا،وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئهافي العدة مع العلم بالحرمةلاتستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذاعلمابالحرمة و وجد شرائط الإحصان،ولوكان منكرا طلاقها لاتنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل.وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدرلم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث،وذكرأنه لو خالعهاولوبمال ثم وطئهافي العدة عالمابالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العددإلى أن تنقضي الأولى،وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطءلاالطلاق حتى لا يقع فيهاطلاق آخر ولا تجب فيها نفقة اه. وما قاله الصدرهوظاهر
الفتاوى الهندية(1 / 372)دارالفكر
الأصل أنه متى وصف الطلاق إن كان وصفا لا يوصف به الطلاق يلغو الوصف ويقع رجعيا مثل أن يقول أنت طالق طلاقا لم يقع عليك أو على أني بالخيار ومتى وصفه بصفة يوصف بها الطلاق فلا يخلو إما أن لا تنبئ عن زيادة كقوله أحسن الطلاق أو أفضله أو أسنه أو أجمله أو أعدله أو خيره أو تنبئ عن زيادة كقوله أشد الطلاق ونحوه فالأول رجعي والثاني بائن على أصولهم.فقط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس