بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوران عدت عورت نےنکاح کرلیا

سوال

میرےپہلےشوہرنےایک دن تکرارمیں 6سے7مرتبہ طلاق کالفظ استعمال کیالیکن اس کے بعد بھی ہم اکٹھےرہتےرہےکیونکہ ہمیں علم نہیں تھا۔چندسالوں کےبعدکسی سےذکرکرنےپرپتہ چلاکہ ہماری طلاق ہوچکی ہے۔اس وقت (oct-2011) سےہم نےعلیحدگی اختیارکرلی، پھرٹھیک ایک ماہ کےاندر (nov-2011) میں میرادوسرےشخص سےنکاح ہوگیا۔میری عدت کےتینPeriods(ماہواریاں)پورےنہیں ہوئےتھے۔ نکاح کےبعد صرف دو ماہ تک ہم اکٹھےرہے۔2012سےاب تک ہماراکوئی رابطہ نہیں ہے۔اب میں نےپوچھنایہ ہےکیا یہ ہمارانکاح شرعاًدرست ہےیانہیں ،اوراگردرست نہیں ہےتومیں ان سےکس طرح علیحدگی اختیارکرسکتی ہوں ؟ کیامیں پہلےشوہرسےدوبارہ نکاح کرسکتی ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کادوسرےشخص سےنکاح درست نہیں ہوا کیونکہ ذکرکردہ صورت میں تین طلاقیں دینےکےبعداکٹھےرہنےکی صورت میں جدائی کےبعدعدت واجب ہےجبکہ یہاں عدت میں نکاح کیاگیااورعدت ميں نکاح منعقدنہیں ہوتا،لہٰذااس تعلق کوختم کرناضروری ہےجس کےلئےیہ طریقہ اختیار کیا جا سکتاہے کہ عورت دوگواہوں کےسامنےیہ الفاظ کہہ دےکہ”میں نےاس شخص کوچھوڑدیا”اس کےبعدسائلہ کااس شخص سےشرعاًتعلق ختم ہوجائےگا۔
واضح رہےکہ دوسرےشخص کےساتھ ہونےوالاسائلہ کامذکورہ نکاح شرعاًنکاح فاسدتھااس لئےاس نکاح کےذریعےیہ خاتون پہلےشوہرکےلئےحلال نہیں ہوئی، چنانچہ پہلےشوہرسےنکاح کرنے کےلیے شرعاً ضروری ہےکہ یہ خاتون کسی شخص سےنکاحِ صحیح کرےاوراس کےبعدہمبستری بھی ہو۔پھراگروہ شخص فوت ہوجائے یاطلاق دیدےتوایسی صورت میں عدت گزرنےکےبعدوہ خاتون پہلےشوہرکےلئےحلال ہوجائےگی۔
الهداية،برهان الدين أبوالحسن علي(م: 593هـ)(2/ 257)داراحياء التراث
“وإن كان الطلاق ثلاثافي الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاصحيحاويدخل بهاثم يطلقهاأويموت عنها”… والزوجية المطلقة إنما ثبتت بنكاح صحيح
فتح القدير،الكمال الدين ابن همام(م: 861هـ)(4/178)دارالفكر
(قوله والزوجية) مطلقا، وكذاالزوج مطلقاإنمايثبت بنكاح صحيح لأن المطلق ينصرف إلى الكامل،أولأنه المتبادرعندإطلاقه خصوصا إذاكان مضافاإلى المستقبل دون النكاح الفاسدبخلافه مضافاإلى الماضي،لأن المرادفي الأول التحصن والإعفاف وهولايحصل إلا بالصحيح،وفي الثاني صدق الإخباروهو يحصل بالتزوج فاسدا
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/ 523)سعيد
قال في البحر:ورجحنافي باب المهرأنهاتكون من المرأة أيضا،ولذاذكرمسكين من صورهاأن تقول:فارقتك.ورجحه باتفاقهم على أن لكل منهمافسخ هذا النكاح،والفسخ متاركة ه
البحر الرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م: 970هـ)(4/ 151)دارالكتاب الاسلامي
الفرقة في النكاح الفاسد وهي إما بتفريق القاضي أو بالمتاركة وابتداؤها من وقت الفرقة
رد المحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/ 522)سعيد
(قوله: ومبدؤها في النكاح الفاسد بعد التفريق إلخ) وقال زفر: من آخر الوطآت لأن الوطء هو السبب الموجب.ولنا أن السبب الموجب للعدة شبهة النكاح ورفع هذه الشبهة بالتفريق، ألا ترى أنه لو وطئها قبل التفريق لا يجب الحد وبعده يجب، فلا تصير شارعة في العدة ما لم ترتفع الشبهة بالتفريق كما في الكافي وغيره. اهـ. سائحاني
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس