میرےپہلےشوہرنےایک دن تکرارمیں 6سے7مرتبہ طلاق کالفظ استعمال کیالیکن اس کے بعد بھی ہم اکٹھےرہتےرہےکیونکہ ہمیں علم نہیں تھا۔چندسالوں کےبعدکسی سےذکرکرنےپرپتہ چلاکہ ہماری طلاق ہوچکی ہے۔اس وقت (oct-2011) سےہم نےعلیحدگی اختیارکرلی، پھرٹھیک ایک ماہ کےاندر (nov-2011) میں میرادوسرےشخص سےنکاح ہوگیا۔میری عدت کےتینPeriods(ماہواریاں)پورےنہیں ہوئےتھے۔ نکاح کےبعد صرف دو ماہ تک ہم اکٹھےرہے۔2012سےاب تک ہماراکوئی رابطہ نہیں ہے۔اب میں نےپوچھنایہ ہےکیا یہ ہمارانکاح شرعاًدرست ہےیانہیں ،اوراگردرست نہیں ہےتومیں ان سےکس طرح علیحدگی اختیارکرسکتی ہوں ؟ کیامیں پہلےشوہرسےدوبارہ نکاح کرسکتی ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کادوسرےشخص سےنکاح درست نہیں ہوا کیونکہ ذکرکردہ صورت میں تین طلاقیں دینےکےبعداکٹھےرہنےکی صورت میں جدائی کےبعدعدت واجب ہےجبکہ یہاں عدت میں نکاح کیاگیااورعدت ميں نکاح منعقدنہیں ہوتا،لہٰذااس تعلق کوختم کرناضروری ہےجس کےلئےیہ طریقہ اختیار کیا جا سکتاہے کہ عورت دوگواہوں کےسامنےیہ الفاظ کہہ دےکہ”میں نےاس شخص کوچھوڑدیا”اس کےبعدسائلہ کااس شخص سےشرعاًتعلق ختم ہوجائےگا۔
واضح رہےکہ دوسرےشخص کےساتھ ہونےوالاسائلہ کامذکورہ نکاح شرعاًنکاح فاسدتھااس لئےاس نکاح کےذریعےیہ خاتون پہلےشوہرکےلئےحلال نہیں ہوئی، چنانچہ پہلےشوہرسےنکاح کرنے کےلیے شرعاً ضروری ہےکہ یہ خاتون کسی شخص سےنکاحِ صحیح کرےاوراس کےبعدہمبستری بھی ہو۔پھراگروہ شخص فوت ہوجائے یاطلاق دیدےتوایسی صورت میں عدت گزرنےکےبعدوہ خاتون پہلےشوہرکےلئےحلال ہوجائےگی۔