بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

“دورانِ جھگڑا یہ کہنا”اگر میں نےتم کو نہیں مارا تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہے وہ میری بہن ہے

سوال

دو بندے آپس میں جھگڑ رہے تھے تو ایک نے کہا کہ ” اگر میں نے تم کو نہیں مارا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے وہ میری بہن ہے ،میں بات نہیں کروں گا جب تک میں آپ کو نہ ماروں “اب اس کا کیا حل ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سوال میں مذکورہ الفاظ :”اگر میں نے تم کو نہیں مارا تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہے ” اگر چہ ایک طلاق رجعی والے الفاظ ہیں لیکن اس کےمتصل بعد :”وہ میری بہن ہے ” کے الفاظ کہنے سے طلاق کے معنیٰ میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے طلاقِ رجعی طلاقِ بائن میں تبدیل ہوگئی ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اب اگر یہ شخص دوسرے شخص کو نہیں مارتا تو اس کی بیوی پرایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی ۔اب اگر شوہر رجوع کرنا چاہے تو باہمی رضامندی اور مہر جدید کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرلے ۔تاہم اسکے بعد اس کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ جاے گا۔
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 39)
وله (وإذا أضاف الطلاق إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) هذا بالاتفاق
الفتاوى الهندية (1/ 420)
إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح …  وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا
خلاصۃ الفتاویٰ
لو قال لامرتہ انت طالق ثم قال للناس “زن بر من حرام است “وعنی بہ الاول  او لا نیۃ لہ فقد جعل الرجعی بائنا وان عن بہ الابتداء فھی طالق آخر بائن
المحيط البرهاني  (3/ 497) دار الكتب العلمية
إذا طلق امرأته تطليقة، ثم قال بعد ذلك: زن برمن حرام رست، يسأل الزوج: عنيت بقولك: زن فرض حرام است الحرمة بتلك التطليقة أو هذا الكلام، إن قال: عنيت بتلك التطليقة، فقد جعل الطلاق الرجعي بائنا، فلا تقع تطليقة أخرى. وإن قال هذا الكلام مثلا، فهو طلاق آخر ثاني
بدائع الصنائع  (3/ 187)  دار الكتب العلمية
فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس