بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوائی کے ذریعے سے لایا گیا حیض کا حکم

سوال

 ایک وعورت کو حیض نہیں آتا وہ عورت دوائی کے زور پر حیض جاری کرتی ہے آیا یہ خون حیض کا شمار ہوگا یا نہیں وہ نماز پڑھے گی یا نہیں؟

جواب

خاتون کو دوائی کے ذریعہ آنے والا خون اگر حیض کی تعریف میں داخل ہو یعنی تین دن سے کم نہ ہو اور دس دن سے زیادہ نہ ہو تو وہ حیض ہی شمار ہوگااور وہ عورت ان دنوں میں نماز نہیں پڑھےگی ۔
رد المحتار (3/552) مکتبہ رشیدیہ
وقال في السراج: سئل بعض المشايخ عن المرضعة إذا لم تر حيضا فعالجته حتى رأت صفرة في أيام الحيض قال: هو حيض تنقضي به العدة۔
الفتاوى الهندية (1/ 40)بیروت
وهو دم من الرحم لا لولادة. كذا في فتح القدير ۔۔۔والمختار أن ما رأته إن كان دما قويا كان حيض۔
الدر المختار (1/ 523)رشیدیہ
و (أقله ثلاثة بلياليها وأكثره عشرة) بعشر ليال۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس