ہم دو بھائی ہیں اپنے داد ا کے پاس رہتے تھے کیونکہ ہمارے والد ہمارے بچپن میں ہی وفات پاگئے تھے۔دادا جان کا ایک اور گھر تھا جس کو فروخت کر کے انہوں نے حصہ اپنی بیٹیوں میں تقسیم کردیاتھا۔داداجان کےساتھ جس گھر میں ہم رہتے تھےاس کے متعلق انہوں نے جامعہ اشرفیہ سے مسئلہ پوچھ کر ہم دونوں بھائیوں کو دے دیا تھا لیکن تب سے ہماری ایک پھوپھو ہم سے اس مکان کے فرنٹ سے ایک دوکان کا مطالبہ کررہی ہیں۔دادا جان وفات پا گئے لیکن انہو ں نے جب مکان ہمیں دیا تو رجسٹری کی تحریرپر دستخط کرتے وقت کہا کہ ایک دوکان کا کرایہ اس پھوپھو کےبچوں کی شادی تک ان کودیتے رہنا،وہ ہم ابھی تک ان کو دے رہے ہیں لیکن کیا پھوپھو کا ہم سے یہ دوکان مانگنا درست ہے ؟
الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی(5/3395)رشیدیۃ
وأثر البيع الصحيح هوتبادل الملكية في العوضين، فيثبت ملك المبيع للمشتري، وملك الثمن للبائع فور انتهاء الإيجاب والقبول إذا لم يكن في البيع خيار۔
الفتاوى الهندية (4/ 374)دارالفکر
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب۔
بدائع الصنائع (7/ 57)دارالکتب العلمیۃ بیروت
أن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام – من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث۔
ردالمحتار(6/759)سعید
لان الترکۃ فی الاصطلاح ماترکہ المیت من الاموال صافیا عن تعلق حق الغیربعین من الاموال کما فی شروح السراجیۃ۔