بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خيالات ميں بيوی کو طلاق دینا

سوال

ابوبکر (فرضی نام) کو بعض اوقات خود سے اکیلے ہی باتیں کرنے کی عادت ہے۔ یہ عادت مستقل یا بیماری کی شکل کی نہیں ہے بلکہ کبھی کبھار کسی گہری سوچ میں ہو تو بڑبڑانے لگتا ہے۔ ابوبکر ایک دن بیٹھے بیٹھے سوچوں میں گم ہو جاتا ہے اور ایک خیالی دنیا بناتا ہے کہ اس کی ایک دوست (عمر) سے ملاقات ہو رہی ہے اور وہ اس سے حال احوال پوچھ رہا ہے ۔ اس دوران ابوبکر اپنے دوست سے خیالی باتیں کرتے ہوئے الفاظ بڑبڑانے لگتا ہے اور خیالی دوست کے سے پوچھتا ہے کہ شادی ہو گئی۔ تو وہ کہتا ہے کہ میری ڈائوورس (طلاق) بھی ہو چکی ہے۔ پھر وہ خیالی دوست اس سےخیالی سوال کرتا ہے کہ تمہاری ہو گئی؟ ابوبکر سوچوں میں ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کرتا ہے کہ “یار میری بھی ڈائیوورس (طلاق) ہو چکی ہے” اور دو مرتبہ یہ جملہ بول دیتا ہے۔ بیوی کا ذکر نہیں کرتا صرف مطلق یہ الفاظ ادا کرتا ہے کہ “یار میری بھی ڈائیوورس (یعنی طلاق) ہو چکی ہے۔ اور ایک مرتبہ یہ جملہ بھی بڑبڑاتا ہے کہ میں بھی ڈائیوورس دے چکا ہوں۔۔۔۔مطلب ایک جھوٹی خبر دے رہا تھا۔ جب خیالات سے باہر آتا ہے تو ایک دم پریشان ہو جاتا ہے کہ آیا اسکی بیوی کو طلاق ہو گئی ہے یا نہیں۔براہ کرم وضاحت فرما دیں۔

جواب

خیالات میں طلاق دینا

یاد رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے الفاظِ طلاق کا ہوش و حواس کے ساتھ زبان سے ادا ہونا ضروری ہے، محض خیالات میں طلاق دینے یا اس کا وسوسہ آنے سے شرعا ًطلاق واقع نہیں ہوتی لہذا صورتِ مسؤلہ میں مذکورہ شخص( ابوبکر) کی منکوحہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو کسی عملی سرگرمی میں مشغول رکھے تاکہ ایسے خیالات رفع ہو سکیں۔نیز واضح رہے کہ دروغ گوئی سے لینے والے فتوی سے حرام حلال نہیں جاتا ۔مفتی صرف سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے۔
صحيح البخاري (3/ 145) دار طوق النجاة
 عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الله تجاوز لي عن أمتي ما وسوست به صدورها، ما لم تعمل أو تكلم
الدر المختار (3/ 230)دارالفکر
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي
وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره
الدر المختار (4/ 224) دارالفکر
وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس
الفتاوى الهندية (1/ 348) دارالفکر
(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق
التاتارخانیہ  (۴۱/۱۳۹۲)
الاصل ان الطلاق انما یقع لوجود لفظا لایقاع من مخاطب فی ملکہ، اذ طلق المخاطب المکلف امراتہ وقع الطلاق کاالعاقل و البالغ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس