بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خون كی خریدوفروخت اورخون کےبدلےخون لینا

سوال

ہسپتالوں میں خون کی خریدوفروخت کرنایاخون کےبدلےخون دیناجائزہےیانہیں؟

جواب

خون کی خریدوفروخت ہرگزجائزنہیں (خواہ نقدی کےعوض ہویاخون کےعوض)بلکہ بوقتِ ضرورت خون عطیہ ہی کیاجائے۔تاہم اگرکسی شخص کوشدیدمجبوری میں بلاقیمت مطلوبہ قسم (گروپ )والاخون دستیاب نہ ہوتوایسی مجبوری کی صورت میں قیمت(نقدی یاخون)دیکرخون حاصل کرناجائزہے،لیکن خون بیچنےوالےکےلیےاس کی قیمت لینادرست نہیں۔
الهداية،برهان الدين علي بن أبي بكر(م: 593هـ)(3/55)داراحياءالتراث العربي
ولابیع لبن امراة فی قدح لناانه جزء الآدمی وهوبجمیع اجزائه مکرم مصون عن الابتذال بالبیع
وفي رد المحتار،ابن عابدين(م: 1252هـ)(5/ 72)سعيد
 (قوله لضرورة الخرز)… (قوله وكره البيع) ؛لأنه لاحاجة إليه للبائع زيلعي،وظاهره أن البيع صحيح.وفيه أن جواز  إقدام المشتري على الشراء للضرورة لايفيدصحة البيع،كمالواضطر إلى دفع رشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس