بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خودروپتوں کی درختوں پرخریدوفروخت

سوال

ہمارے علاقوں میں ایک خودرو درخت ہے جس کے پتے جانوروں کے لئے بہت اہم اورمفیدسمجھے جاتے ہیں ، اس کے پتوں کی درختوں پرہی خریدوفروخت معروف ہے جنہیں خریدنے کے بعد مشتری اپنی ضرورت کے مطابق موسم (وقتِ معروف)کے اندروقتاً فوقتاً کاٹ کرلے جاتاہے۔نیزشاخ کوکونسی جگہ سے کاٹیں گے اس کی تحدید صراحتاً نہیں ہوتی ،لیکن عرف میں اس کی جگہ معلوم ہوتی ہے ،عام لوگ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ کاٹتے وقت مشتری نے تجاوز سے کام لیا یانہیں ۔معلوم یہ کرناہے کہ پتوں کی اس طریقہ کے مطابق بیع درست ہے یانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً شاخوں کے کاٹنے کی جگہ عرف میں معلوم ہےاور اس میں جہالت مفضیہ الی المنازعہ موجود نہیں ہےتو اس صورت میں اپنی مملوکہ زمین کے درختوں کے پتوں کی خریدوفروخت جائز ہے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(5 / 64)سعيد
قال في القنية:اشترى أوراق التوت،ولم يبين موضع القطع لكنه معلوم عرفا صح،ولوترك الأغصان له أن يقطعهافي السنة الثانية
 وکذافی البحرالرائق(5/326)دارالکتاب الاسلامی،وفی الفتاوی الهندية(3/107)دارالفکر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس