ایک شخص نے اپنی بہو کو باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے کمر پر گدگداری کی اور وہ گھبرا گئی۔سسر وہاں سے چلا گیا۔دوسری دفعہ اپنے بیٹے اور بیوی کے سامنے کھانا کھاتے ہوئے گدگداری کی اور کہا کے میری بیٹی کے گدگداری ہوتی ہے اس پر ساس نے کہا کہ ہاں ہاں بیٹی ہے، بہو گھبرا کر ہٹ گئی اور سسر بھی وہاں سے اٹھ گئے۔
ایک واقعہ اور ہے: بہو کے ہاں بچہ ہوا ،وہ لیٹی ہوئی تھی ،سسر صاحب اس کے پاس گئے اس کے گلے میں اس طرح ہاتھ ڈالا کہ سسر کی کہنی بہو کے سینے پر تھی ۔انہوں نے ہاتھ سے سر اٹھایا اور اس کے اوپر جھکے اور بہو کے دونوں رخساروں پر بوسہ دیا جبکہ اس کا بیٹایعنی شوہر اور اس کی بیوی یعنی ساس اور لڑکی کا باپ موجود تھے اور انہوں نے اس کو خود جھکتے ہوئے دیکھا ہے۔ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر فرمائیے کہ بہو اور بیٹے کا تعلق قائم رہایاٹوٹ گیا؟ آیا وہ حلال رہی یا حرام ہوگئی؟
صورت مسئولہ میں بتقدیر صحت سوال مذکورہ عورت اپنے خاوند پر حرام ہو چکی ہے، خاوند کو چاہئے کہ زبان سے بھی کہہ دے میں نے اسے چھوڑا تاکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکے۔ واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں عدت کی ابتداء متارکت کے بعدسے ہوگی۔