بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خاوند ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹے کے درمیان تقسیم میراث

سوال

ایک شخص کی بیوی کا انتقال ہوگیا ہے ورثا میں خاوند، تین بیٹیاں ، ااور ایک بیٹا موجود ہے۔ مرحومہ کا کل ترکہ 49،07،500 روپے ہیں، اس رقم کو ورثا میں کیسے تقسیم کریں گے؟ قرآ ن سنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا

جواب

واضح رہے کہ مرحومہ کے کل ترکہ میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے کل (۲۰) حصے کرکے پانچ (۵) حصے زوج کو چھ (۶) حصے بیٹے اور بقیہ نو (۹) حصے تینوں بیٹیوں میں برابر تقسیم کیے جائیں۔ بشرطیکہ موجودہ ورثا کے علاوہ اور کوئی شرعی وارث نہ ہو۔ تقسیم میراث کا نقشہ حسب ذیل ہے۔

۴/ ۵ =۲۰                                              مضروب ۵

3 بیٹیاں بیٹا زوج
عصبہ ربع
9 6 5

زوج کا حصہ : 1226875      (بارہ لاکھ چھبیس ہزار آٹھ سو پچہتر)

بیٹے کا حصہ:1472250        ( چودہ لاکھ بہتر ہزار دوسو پچاس)

فی بیٹی کا حصہ:736125       (سات لاکھ چھتیس ہزار ایک سو پچیس)

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس