بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خاوند ،چار بیٹیاں،تین بیٹےاور ایک بھائی کے درمیان تقسیم میراث

سوال

میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ورثاء میں سے مرحومہ کا خاوند ، تین بیٹے، چار بیٹیاں اور ایک بھائی ہے اب ان کے درمیان میراث کس حساب سے تقسیم ہو گئی؟

جواب

میراث کی تقسیم

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ بھی چھوڑا ہے خواہ وہ منقولی ہو یا غیر منقولی مثلاً: زمین جائیداد، نقد روپیہ، سونا ، چاندی اور گھریلو سازو سامان وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔ سب سے اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کا واجب الادا قرض ہے تو وہ ادا کر لیا جائے اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی( 1/3)مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کیا جائے۔البتہ تجہیز و تکفین کے اخراجات مرحومہ کے شوہر کے ذمے ہیں ۔اس کے بعد بقایا کل ترکہ کو ۴۰حصوں میں تقسیم کر کے ۱۰ حصے خاوندکو ، ۶ حصے ہر ایک بیٹے کو، ۳ حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔جبکہ بھائی ترکہ سے محروم ہوگا۔ نقشہ مندرجہ ذیل ہے

مسئلہ:۴ ×۱۰تص۴۰                                                   مضروب:۱۰

ميتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

خاوند بیٹے3 بیٹیاں4 بھائی
ربع عصبہ محروم
۱×۱۰ ۳×۱۰
۱۰ ۱۸ ۱۲
۱۰ ۶فی بیٹا 6 حصے ۳فی بیٹی 3حصے
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس