صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ بھی چھوڑا ہے خواہ وہ منقولی ہو یا غیر منقولی مثلاً: زمین جائیداد، نقد روپیہ، سونا ، چاندی اور گھریلو سازو سامان وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔ سب سے اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کا واجب الادا قرض ہے تو وہ ادا کر لیا جائے اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی( 1/3)مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کیا جائے۔البتہ تجہیز و تکفین کے اخراجات مرحومہ کے شوہر کے ذمے ہیں ۔اس کے بعد بقایا کل ترکہ کو ۴۰حصوں میں تقسیم کر کے ۱۰ حصے خاوندکو ، ۶ حصے ہر ایک بیٹے کو، ۳ حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔جبکہ بھائی ترکہ سے محروم ہوگا۔ نقشہ مندرجہ ذیل ہے