بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خالی پلاٹ پر تعمیر کر کے اس کی وجہ سے آدھا کرایہ لینا

سوال

چند سال قبل دو آدمیوں کے مابین یہ معاملہ طے پایا کہ ایک آدمی کا خالی پلاٹ تھا دوسرے آدنی نے اس سے کہا کہ اس خالی پلاٹ پر میں اپنی مالیت سے دکان بناتا ہوں اور اس دکان کو آپ مجھے کرایہ پر دیں گے جو مروجہ کرایہ کا نصف ہو گا اور میں وہی کرایہ بھی آپ کو ادانہیں کروں گا بلکہ میں اپنے سرمایہ میں محسوب کروں گا جب میرا سرمایہ مجھے وصول ہوجائے یعنی مکمل ہو جائے گا تب میں آپ کو مروجہ کل کرایہ ادا کروں گا۔ آیا شریعت میں اس طرح معاملہ کرنا درست ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں بظاہر معلوم ہورہاہے کہ مالکِ زمین سرمایہ کاری کرنے والے شخص کا مقروض ہوا ہے اور قرض کی وجہ سے ہی کرایہ میں کمی طے پائی ہے جوکہ شرعاً سود کے زمرے ہی میں آتاہے۔ لہذا ذکر کردہ معاملہ شرعاً ناجائز ہے ، اس کو فوری طورپر ختم کرنا فریقین پر لازم ہے اور اس معاملہ کے درست ہونے اور سود کے گناہ سے بچنے کےلئے ضروری ہےکہ کرایہ دار(انوسٹر) نے جتنی مدت دکان استعمال کی ہے اتنی مدت کا مروجہ (مارکیٹ کے مطابق) کرایہ دے یا اپنے سرمایہ میں محسوب کرے۔
صحيح مسلم (3/  1219) دار إحياء التراث العربي
عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» ، وقال: «هم سواء»
السنن الكبرى للبيهقي (5/  350) مكتبة دار الباز
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا
سنن ابن ماجه (2/  813) دار إحياء الكتب العربية
عن يحيى بن أبي إسحاق الهنائي، قال: سألت أنس بن مالك: الرجل منا يقرض أخاه المال فيهدي له؟ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أقرض أحدكم قرضا، فأهدى له، أو حمله على الدابة، فلا يركبها ولا يقبله، إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك»
بدائع الصنائع(7/  395) دار الكتب العلمية
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس