ایک مسئلہ کے بارے میں شرعی راہنمائی درکار ہے ۔ہمارے ہاں لیبارٹری میں گنے سے سرکہ تیار کیا جاتا ہے جو مختلف مراحل سے گزر کر پہلے ایتھائل الکوحل میں تبدیل ہوتا ہے ،اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد اس کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے جو چکھنے سے بھی ہو تی ہے اور دیگر آلات کے ذریعے سے بھی کی جا سکتی ہے، اور پھر کچھ مراحل سے گزر کر وہ سرکہ بن جاتی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ الکوحل میں تبدیل ہوجانے کے بعد اس کو زبان سے چکھنے کی شرعاً گنجائش ہے یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ الکوحل اگرچہ انگور، کھجور وغیرہ کے علاوہ سے تیار ہوتی ہے اور اس کو ادویات و غیرہ میں ملا کر استعمال کرنے کی ضرورت کی وجہ سے گنجائش بھی دی گئی ہے،لیکن سوال میں ذکر کردہ غیر مرکب الکوحل کو سرکہ بننے سے پہلے ٹیسٹنگ کی نیت سے زبان سے چکھنے سے احتراز کیا جائے اور دیگر جن طریقوں سے اس کی ٹیسٹنگ ممکن ہے (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے )ان کے مطابق ہی ٹیسٹنگ کی جائے ۔
تکملة فتح الملھم(3/342)دارالعلوم
وأما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول(Alcohol) المسكرة التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية والعطور والمركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله۔ و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ مِن العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البیوع