بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حکومت کو جھوٹ بول کر مراعات لینا

سوال

یونان کے قانون کے مطابق جس کے پاس کام کیا جائے وہ حکومت کو ٹیکس دیتا ہے، اب ہمارے ساتھی کام بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو حکومت کے حساب میں بےروزگار ظاہر کرتے ہیں، اور ان سے ہرماہ بےروزگاری الاؤنس بھی لیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

قران و سنت میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق متعدد وعیدیں وارد ہوئی ہیں چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ” جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے منہ کی بدبو سے دور چلا جاتا ہے” ایک اور حدیث میں “جھوٹ بولنے کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے” لہذا آپ کے ساتھیوں کا جھوٹ بول کر اپنے آپ کو بے روزگار ظاہر کرکے حکومت سے مراعات لینا جائز نہیں ہے ۔
صحيح البخاري (1/ 287)مكتبه الشيخ كراچي
قال النبي صلى الله عليه وسلم: «الخديعة في النار، من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد»۔
سنن الترمذي ت شاكر (4/ 348)
 عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا من نتن ما جاء به؟» قال يحيى: فأقر به عبد الرحيم بن هارون، فقال: نعم۔
سنن الترمذي ت بشار (3/ 415)
عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال العبد يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

19

/

26

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس