بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حکومت کا اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی کو ممنوع اور قابلِ سزا جرم قرار دینا

سوال

قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے بل یعنی کم عمری میں شادی کرنے والوں اور کروانے والوں کو سزا اور قید ہوگی ۔ کیا اس کی یہ توجیہ ممکن نہیں کہ 18 سال سے پہلے شادی کرنے کی اسلام نے اجازت دی ہےحکم نہیں دیا اور اولی الامر اگر اس اجازت کو مؤخر کر دیں تو اس کی اتباع کی جائے گی ؟کیونکہ یہ کسی وجوبی حکم کی تحدید نہیں بلکہ ایک اجازت کو مؤخر کرنا ہے ۔نیز عام طور پر 95 فیصد شادیاں 20 سال کی عمر کے بعد ہوتی ہیں ۔ اس کے بارے میں راہنمائی فرمائیں۔

جواب

تمہیداً یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی کی اولادبالغ ہو جائے تو ان کی شادی کر دینی چاہیے پس اگر ان کی شادی نہ کی اور وہ کسی گناہ (بدکاری )میں مبتلا ہو گئے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہوگا” ] مشکوٰۃ المصابیح:2/271[۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتاہے کہ والد پر گناہ اس وجہ سےہے کہ وہ شادی میں رکاوٹ بنا ہے۔ظاہر ہے کہ شادی کے حوالے سےہر شخص کے حالات وکیفیات خواہشات نفسانی کی بنیاد پر مختلف ہیں اور ان کی وجہ سے شادی کاحکم بھی مختلف ہوتا ہے ۔کسی کے حق میں نکاح واجب توکسی کے حق میں سنت مؤکدہ، کسی کے لیے مباح ہےاور کسی پرحرام۔ لہٰذا اگر کسی کو بلوغت کے فوراً بعد شادی کی ضرورت ہے اور اس کو یقین ہے کہ اگر وہ جلد شادی نہیں کرے گا تو وہ گناہ میں مبتلا ہو جائے گا تواس پرنکاح کرناواجب ہے اور حکم ہےکہ ایسی صورت حال میں کسی سر پرست کو بھی رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے۔اور رکاوٹ کی وجہ سے گناہ کا سارا وبال اس کے والد کے سر پر ہوگا حالانکہ والدکی اطاعت کو شرعاً اس قدر اہمیت حاصل ہےکہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کے بعد دوسرے نمبر پروالدین کی اطاعت کا حکم فرمایا اورجس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ والد کی رضا مندی خدا کی رضا مندی ہے اور والد کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے ۔ اسی طرح اگرکسی بالغ آدمی کو اس بات کا یقین ہو کہ میں شادی کی صورت میں بیوی کے حقوق پورے نہیں کر پاؤں گا اور اس کے ساتھ جبر وظلم کروں گا تو ایسے شخص کے لیے شادی کرنا حرام ہے ۔ چنانچہ اسی بناء پر شریعت نے شادی کے حوالے سے عمر کی کوئی قید اور تحدید نہیں کی بلکہ آدمی کی ذاتی کیفیت کے اعتبار سے نکاح کے وجوب ، سنت ،مباح یا حرام ہونے کا حکم لگایا ہے اس لیے یہ کہنا کہ18 سال سے کم میں نکاح کی صرف اجازت ہے حکم نہیں درست نہیں ہے ۔عین یہ ممکن ہے بلکہ مشاہدہ ہےکہ 18 سال سے کم عمر والے شخص پر کیفیت اشتھاءکے اعتبار سے نکاح واجب ہو، کسی حکومت کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی عائد کرے۔ ان وجوہ کی بناء اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کامذکورہ فیصلہ شریعت مطہرہ کےواضح خلاف ہے۔اس کی وجہ سے اگر کوئی شخص گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کے گنا ہ کا وبال حکومت پر ہی ہوگا ۔اس لیے لوگوں کو اس کے خلاف علماء کی نگرانی میں آوازبھی اٹھانی چاہیئے اور آئینی جد وجہد سے پیچھے ہر گز نہیں ہٹنا چاہیئے ۔ (جوہر الفقہ)
 [النساء: 59]
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
سنن الترمذي (4/ 209)
 عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة
سنن الترمذي (3/ 374)
عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد
مشکوٰۃ المصابیح (2/271)حبیبیۃ رشیدیۃ
عن أبي سعيد، وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه “… ….عن عمر بن الخطاب و أنس  بن مالک عن رسول اللہ ﷺ  قال فی التورٰۃ مکتوب من بلغت إبنتہ إثنتی عشرۃسنۃ ولم یزوجھا فأصابت إثما فإثم ذلک علیہ
                    بدائع الصنائع (9/389)دارالكتب العلمية
 وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به، وينهاهم عنه؛ لقول الله  تبارك وتعالى-  {يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال  عليه الصلاة والسلام -: «اسمعوا وأطيعوا، ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله  تعالى» ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله – عليه الصلاة والسلام -: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق
رد المحتار (4/ 264)سعید
(قوله: افترض عليه إجابته) والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال صلى الله عليه وسلم «اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع» وروي «مجدع» وعن ابن عمر أنه – عليه الصلاة والسلام – قال «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة
جواہر الفقہ (4/282)
نکاح میں  عمر کی پابندی
“قانونی طور پر اس کو قابلِ سزا جرم قرار دینے میں قانون شریعت سے تصادم ہوتا ہے، اس سے اجتناب کیا جائے “۔
جواہر الفقہ (5/452)

خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں

اس حدیث نے ایک صاف دستور العمل بتا دیا کہ مسلمانوں کا امیربعد اس کے کہ وہ  مسلمان ہے اپنے ذاتی اعمال و افعال میں کیسا بھی ہو مسلمان اس کی قیادت و امارت سے باہر نہ ہوں ۔ہاں اگر وہ کسی گناہ میں مبتلا ہے تو اس کے اس فعل کو برا سمجھیں خود اس گناہ کے پاس نہ جائیں بلکہ اگر یہ امیر مسلمانوں کو کسی ناجائز فعل کا حکم کرے  تو اس حکم میں اس کی اطاعت نہ کریں ۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث  میں ارشاد ہے کہ خالق  کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس