فریق اول : میر سید ولد افضل گلادام زوجہ مجاہدالدین۔فریق ثانی: مجاہد الدین ولد حاجت اکبر فریق اول میں سے گلادام زوجہ مجاہدالدین اور فریق ثانی مجاہدالدین ولد حاجت اکبر کے درمیان تنازعہ واقع ہوا تھا، جس کی بنا پر گلادام زوجہ مجاہدالدین نے اپنے خاوند مجاہدالدین ولد حاجت اکبر کے خلاف تھانے میں درخواست دائر کر دی تھی۔ پھر فریقین نے جرگے کے ذریعے تنازعے کو ختم کرنے پر اتفاق کر لیا، فریقین نے تین طلاق تحریری پر دستخط کر کے غیر مشروط طور پر جرگہ داران مقرر کر دیا کہ جرگہ داران جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہوگا ،فیصلے کو نہ ماننے کی صورت میں جو فریق جرگے کا فیصلہ نہیں مانے گا اس کی تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، البتہ فریقین نے طلاق عملا واقع نہیں کیا ہے ،صرف لکھے ہوئے پر دستخط کیا ہے، فریق اول میں سے میر سید ولد افضل(جو کہ گلادام کے سگے بھائی ہیں) تین طلاق تحریری پر دستخط کر کے پابند ہوئے ہیں کہ جرگہ داران کا فیصلہ میں بھی مانوں گا اور میری بہن گلادام بھی مانے گی،بعد ازاں جرگہ داران نے فیصلہ کیا اور فریق ثانی مجاہدالدین ولد حاجت اکبر کو سنایا ،اس نے فیصلے کو قبول کیا۔
اس کے بعد جب فیصلہ فریق اول کو سنایا تو میر سید ولد افضل نے کہا کہ فیصلے میں میری بہن کے ساتھ ظلم ہوا ہے،اگر ہو سکتا ہے تو آپ یہ فیصلہ واپس لے لیں اور ہماری رائے(جرگہ داران کو فیصلے کی جو رائے دی ہے) واپس کر دیں ،نیز میر سید ولد افضل کی بہن گلادام نے بھی فیصلہ ماننے سے انکار کرتےہوئے کہا کہ وہ خودکشی کرے گی،جرگہ داران کی کافی کوشش کے بعد فریق اول کا فیصلہ نہ ماننے پر جرگہ داران نے یہ سوچا کہ ایک تو فریق اول میں سے گلادام زوجہ مجاہدالدین نے خودکشی کی دھمکی دی ہے، نیز فیصلہ مسلط کرنے کی صورت میں میر سید ولد افضل کی طلاق واقع نہ ہو جائے اسی مجبوری اور سوچ کی وجہ سے فریق اول یعنی میر سید اور ان کی بہن گلادام کو اسی مجلس میں کہا کہ ہم نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہےا،اور فریق ثانی کو بھی اسی مجلس میں کال کر کے اطلاع دی کہ فیصلہ ہم نے واپس لے لیا ہے،اور آپ نے ہمیں فیصلہ کرنے کی جو رائے دی تھی وہ ہم نے واپس کر دیا۔ دریافت طلب امور یہ ہیں
نمبر1۔کیا جرگہ داران کا فیصلہ سناتے ہی فورا فریقین پر لاگو اور لازم ہو گیاہے؟
نمبر2-اگر فیصلہ فورا ان کے اوپر نافذ ہو چکا ہے تو کیا فیصلہ سنانے اور لازم ہونے کے بعد جرگہ داران اپنا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں؟
نمبر3-اگر فیصلہ فریقین کے اوپر لازم ہو چکا ہے اور جرگہ داران اپنا فیصلہ واپس بھی نہیں لے سکتے ہیں تو جرگہ داران نے فیصلہ ماننے کے لئے کوئی وقت نہیں دیا ہے یعنی فیصلہ فورا ماننے کی کوئی شرط نہیں ہے،اب مذکورہ فریق یعنی میر سید ولد افضل اور ان کی بہن گلادام زوجہ مجاہدالدین فیصلے کو قبول کرنے اور عملدرآمد کرنے کے لئے تیار ہے، اب فیصلہ ماننے اور عملدرآمد کرنے سے میر سید ولد افضل کی طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ فریق (میر سید ولد افضل اور گلادام زوجہ مجاہدالدین) سمجھ رہا تھا کہ جرگہ داران نے فیصلہ واپس لے لیا ہے اور ہماری رائے واپس کر دی ہے لہذا طلاق واقع نہیں ہوگی؟
نمبر1-3 واضح رہے کہ فریقین باہمی رضامندی سے جس کو حَکم (ثالث ) بنا لیں ان پر شرعاً ثالث کے فیصلے کے مطابق عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے اور فریقین یا خودثالث کا اپنے فیصلہ کو منسوخ کرنے سے وہ فیصلہ منسوخ نہیں ہوتا۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں فریقین میں سے ہر ایک پر لازم ہو گیاہے کہ وہ جرگہ داران کے فیصلے کے مطابق عمل کریں ۔نیز فریقین میں سے ہر ایک نے فیصلہ نہ ماننے پر جو طلاق کو معلق کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک فیصلہ پر عمل کرنے کا حتمی طور پر پابند ہوگا۔اس لیے اس پر عملد ر آمد نہ کرنے کی صورت میں منکر فریق کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور ابھی چونکہ ان کے پاس فیصلہ پر عملد رآمد کرنے کا موقع موجود ہے اس لیے فی الحال طلاق واقع نہیں ہوئی۔
الدر المختار (5/ 429) دار الفكر
(فإن حكم لزمهما) ولا يبطل حكمه بعزلهما لصدوره عن ولاية شرعية و (لا) يتعدى حكمه إلى (غيرهما)
البحر الرائق (7/ 26) دار الكتاب الإسلامي
(قوله ولكل واحد من الحكمين أن يرجع قبل حكمه) ؛ لأنه تقلد من جهتهما فكان لكل منهما عزله وهو من الأمور الجائزة فينفرد أحدهما بنقضه كالمضاربة والشركة والوكالة (قوله فإن حكم لزمهما) لصدوره عن ولاية شرعية فلا يبطل حكمه بعزلهما وأشار بقوله لزمهما إلى أنه لا يتعدى إلى غيرهم
البحر الرائق (7/ 27)
لو رجع المحكم عن حكمه فقضى للآخر لم يصح؛ لأنها تمت الحكومة بالقضاء الأول
الفتاوى الهندية (1/ 420) دار الفكر
إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح۔۔۔وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
الدر المختار (3/ 757)
حلف (ليأتينه) فهو أن يأتي منزله أو حانوته لقيه أم لا (فلو لم يأته حتى مات) أحدهما (حنث في آخر حياته) وكذا كل يمين مطلقة
رد المحتار (3/ 757)
(قوله حتى مات أحدهما) قدر لفظ أحدهما لأن الحنث لا يختص بموت الحالف فقط، بل المحلوف عليه مثله كما يأتي (قوله حنث في آخر حياته) أي حياة أحدهما، فلو كانت يمينه بالطلاق فماتت المرأة تبقى اليمين لامكان الإتيان بعد موتها، نعم لو كان الشرط طلاقها مثل إن لم أطلقك فأنت طالق ثلاثا يحنث بموتها أيضا لتحقق اليأس عن الشرط بموتها إذ لا يمكن طلاقها بعده بخلاف الإتيان ونحوه كما قدمناه في الطلاق الصريح عن الفتح، وكلام الفتح هنا موهم خلاف المراد فتنبه (قوله وكذا كل يمين مطلقة) أي لا خصوصية للإتيان، بل كل فعل حلف أن يفعله في المستقبل وأطلقه ولم يقيده بوقت لم يحنث حتى يقع اليأس عن البر مثل ليضربن زيدا أو ليعطين فلانة أو ليطلقن زوجته وتحقق اليأس عن البر يكون بفوت أحدهما