بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حمل کے دوران طلاق کے وقوع اور عدت کا حکم

سوال

کیا حمل کے دوران طلاق موثر ہوجاتی ہے؟ اگر ہاں۔ تو عدت کی مدت کتنی ہوگی؟ اگر اس پر فتویٰ مل جائے۔

جواب

حمل کے دوران طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اس کی عدت وضع حمل(یعنی بچہ کی ولادت) ہے۔
الدر المختار (3/ 232) دار الفكر
(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل
المبسوط للسرخسي (6/ 15) دار المعرفة
(قال) وعدة الحامل أن تضع حملها ولو وضعت حملها بعد الطلاق بيوم لقوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] ولأن وضع الحمل أدل على ما هو المقصود وهو معرفة براءة الرحم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس