ایک خاتون ہیں جنہیں حمل کو ٹھہرے ہوئے صرف ایک ہفتہ ہوا ہے۔ حمل کی تصدیق دو دن بعد ہی ہو چکی تھی۔ خاتون کی صحت پہلے سے کمزور ہے، مختلف دائمی بیماریوں کا شکار ہیں، جیسے کہ گزشتہ 25 سال سے لیکوریا کی مریضہ ہیں، بلڈ پریشر اکثر کم رہتا ہے، اور عمومی جسمانی کمزوری کی حالت میں ہیں۔ ہر نماز کے لیے طہارت قائم رکھنے کے لیے کپڑے تبدیل کرنا پڑتے ہیں۔
اس عورت کے پہلے چار بچے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئے، اور ہر بار ڈیڑھ سال کے وقفے سے حمل ہوا۔ ہر زچگی کے وقت لیڈی ڈاکٹرز نے تنبیہ کی کہ آئندہ حمل اور آپریشن جان لیوا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات ڈاکٹرز نے رحم ختم کروانے تک کا مشورہ دیا، مگر عورت نے شرعی لحاظ سے اسے قبول نہیں کیا۔
اب حالیہ حمل کی صورت میں ماہر ڈاکٹرز نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حمل برقرار رکھنے کی صورت میں یا تو حمل ضائع ہو جائے گا یا عورت کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوگا، حتیٰ کہ موت کا بھی اندیشہ ہے۔
ایسے حالات میں، جب حمل کو ابھی صرف ایک ہفتہ ہوا ہے، اور طبی طور پر ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہے، کیا شریعت اس حمل کو ضائع کرنے کی اجازت دیتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں واقعتاً اگر حمل کو ٹھہرے ہوئے صرف ایک ہفتہ ہوا ہے تو ماہر ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق موجودہ عذر میں اسقاطِ حمل کروایا جا سکتا ہے، تاہم چار ماہ بعد حمل میں روح پڑ جائے تو اسقاطِ حمل قتلِ انسانی کے حکم میں ہے۔
الفتاوى الهندية (5/ 356) دار الفكر
يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين
حاشية ابن عابدين (3/ 176) دار الفكر
(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح
المحيط البرهاني (5/ 374) دار الكتب العلمية
هل يباح لها أن تعالج في إسقاط الولد؟ قالوا: يباح ما دام نطفة، أو علقة، أو مضغة لم يخلق له عضو؛ لأنه ليس بآدم