بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حقیقی اور سوتیلی بھتیجوں،بھتیجیوں اور بھانجون اور بھانجیوں میں وراثت کی تقسیم

سوال

اسحاق احمد کے دادا ۔۔۔۔(فوت ) اسحاق احمد کے والد غلام محمد (فوت ) كی دو بیویاں تھیں۔پہلی بیوی مرحومہ کا ایک بیٹا اسحاق احمد  2005ء میں فوت ہواہے اس سے کوئی اولاد نہیں ہے ۔ اور اسحاق کی بیوی (2004ء میں فوت ہوئی ) کے 2 بھائی  پہلے سے فوت ہوئے ہیں اور 2 بہنیں  غیر شادی شدہ ہیں اور ایک بہن بعد میں فوت ہوگئی تھی۔
:دوسری  بیوی سے دو بیٹے اور ا یک بیٹی
نمبر ۱۔بیٹا مشتاق  احمد(فوت)      نمبر ۲۔ بیٹا افتخار(فوت)     نمبر ۳۔بیٹی سرور (فوت)
بڑا بیٹا مشتاق کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں       دوبیٹے اور ایک بیٹی فوت ہوگئے اور ایک بیٹا حیات ہیں۔
بیٹا افتخارکے  چار بیٹے اور ایک بیٹی  ہیں ۔ بیٹی سرور  کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ایک بیٹی بعد میں فوت ہوگئی۔
اسحاق احمد کی وراثت کے حوالے سے پوچھنا تھا ان کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟

جواب

مرحوم کے کل ترکے سے تجہیز وتکفین اور ادائیگی قرض اور ایک تہائی مال میں سے وصیت پوری کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ کے پانچ حصے کرکے ہر سوتیلے بھتیجے کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے ۔واضح رہے کہ مرحوم کی سوتیلی بھتیجیاں اور سوتیلے بھانجے وبھانجیاں وراثت میں حصہ دار نہیں ہیں ۔

 

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس