کیا گھرکی چوکیداری وحفاظت کےلیےاوراپنی ذاتی سیکورٹی کےلیےکتارکھناجائز ہے؟نیز گھرکی چوکیداری کےلیےاگرکتارکھاجائےتودیہات اورشہر کےاعتبارسےحکم میں کوئی فرق ہےیانہیں حالانکہ موجودہ زمانہ میں سیکورٹی کےجدید ترین آلات بھی موجودہیں اوراگرشوقیہ طورپرپالاجائےتواس کی کس حد تک اجازت ہے۔میں نےسناہے کہ جس گھرمیں کتاہو اس گھر میں فرشتےداخل نہیں ہوتےکیا یہ درست ہے؟
بلاضرورت اورشوقیہ طورپرکتے پالناممنوع اورناجائزہے ، البتہ حفاظت اور چوکیداری کے لئے کتے پالنے کی اجازت ہےاوراس سلسلے میں دیہات اورشہرکے احکام میں کوئی فرق نہیں ،لیکن حتی الامکان کتے کو رہائشی مکان میں نہ رکھیں، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جس گھرمیں کتے ہوں اس گھرمیں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔ نیزاس دورمیں سیکورٹی کے جدیدترین آلات موجودہیں۔ لہٰذابہتریہ ہے کہ سیکورٹی کےلئے کتے پالنےکےبجائے کوئی اورجائزصورت اختیارفرمائیں ۔
:الصحيح لمحمد بن إسماعيل البخاري(م: 256ھـ)(4/130)دارطوق النجاة
عن أبي طلحة رضي الله عنهم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة”
:مرقاة المفاتيح للملا علي القاري(م: 1014هـ)(7/2848)دارالفكر
(عن أبي طلحة): أي سهل بن زيد الأنصاري، زوج أم أنس بن مالك (قال: قال النبي – صلى الله عليه وسلم: لا تدخل): بصيغة التأنيث وجوز تذكيره (الملائكة) : أي ملائكة الرحمة لا الحفظة وملائكة الموت، وفيه إشارة إلى كراهتهم ذلك أيضا، لكنهم مأمورون ويفعلون ما يؤمرون. (بيتا) أي مسكنا (فيه كلب) : أي إلا كلب الصيد والماشية والزرع وقيل: إنه مانع أيضا وإن لم يكن اتخاذه حراما
:الفتاوى الهندية (5 /361)دار الفكر
وفي الأجناس لا ينبغي أن يتخذ كلبا إلا أن يخاف من اللصوص أو غيرهم وكذا الأسد والفهد والضبع وجميع السباع وهذا قياس قول أبي يوسف – رحمه الله تعالى – كذا في الخلاصة.ويجب أن يعلم بأن اقتناء الكلب لأجل الحرس جائز شرعا وكذلك اقتناؤه للاصطياد مباح وكذلك اقتناؤه لحفظ الزرع والماشية جائز كذا في الذخيرة
:مجمع الأنهر،عبد الرحمن بن محمد(م: 1078ھـ)(2 /108)دارإحياءالتراث العربي
وأما اقتناء الكلب للصيد أو لحفظ الزرع أو المواشي أو البيوت فجائز بالإجماع كما في الشمني