بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ میسون کون تھیں، مسلمان یا نصرانی؟

سوال

کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ میسون بنت بحدل کلبی نصرانی تھی یا مسلمان تھی؟ ایک پیر صاحب نصرانی کہتے ہیں اور دوسری طرف ایک طالب علم مولانا اکرام صاحب کہتے ہیں کہ آپ تابعات میں سے ہیں جو پیر صاحب آپ کو نصرانی کہتے ہیں وہ غلط ہے اور ان کو توبہ کرنی چاہیے اور آپ کی مقدس ذات پر بکواس کرنا شیعہ کا طریقہ ہے اور جو توبہ نہ کرے اس کے ساتھ سلام و کلام حرام ہے، اگر مرے تو اس کی نماز جنازہ حرام، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام۔
سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں درست کون کہتا ہے پیر صاحب یا مولانا صاحب ؟ اس بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ اگر پیر صاحب درست کہتے ہے تو مولانا کا کیا حکم ہے؟ اور اگر مولانا صاحب درست کہتے ہے تو پیر صاحب کا کیا حکم ہے؟ اور پیر صاحب کی لوگوں کو بیعت کرنا اور لوگوں کا بیعت ہونا کیا شرع میں درست ہے یا نہیں؟

جواب

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ “میسون بنت بحدل کلبی” مسلمان تھیں۔ علامہ زبیدی نے”تاج العروس “میں صغانی کے حوالے سے تابعیہ کہا ہے اور ” تاریخ دمشق” میں ان سے روایات بھی مروی ہیں۔حضرت میسون کا تعلق عرب قبیلے” بنو کلب” سے تھا جس کے اکثر لوگ زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے،اس بنیاد پر بعض مستشرق(غیر مسلم) مؤرخین نے ان کے اسلام کے بارے میں شک کا اظہار کیا ہے ، تاہم یہ وجہ حقائق کے خلاف ہے۔صحابہ کرام میں کئی حضرات”بنو کلب” سے تعلق رکھتے تھے، مثلاً: حضرت زید بن حارثہ، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہم وغیرہم ۔ چوں کہ”میسون بنت بحدل” کو عیسائی سمجھنے کی وجہ کمزور اور مشکوک ہے ، اس لیے سوال میں مذکور جن صاحب کے حوالے سے یہ مؤقف نقل کیا گیا ہے، اگر انہوں نے ایسا ہی کہا ہے تو ان کا خیال درست نہیں ہے۔
تاريخ دمشق(70/ 130) دار الفكر
ميسون بنت بحدل بن أنيف بن …  الكلبية زوج معاوية بن أبي سفيان وأم يزيد بن معاوية روت عن معاوية روى عنها محمد بن علي وكانت امرأة لبيبة بلغني أن معاوية دخل عليها ومعه حديج الخصي فاستترت منه فقال لها معاوية إن هذا بمنزلة المرأة فعلام تستترين منه فقالت له كأنك ترى أن المثلة أحلت لي مني ما حرم الله عليه
عن محمد بن علي عن ميسون بنت بحدل زاد علي بن عمر امرأة معاوية ثم قالا عن معاوية أن النبي (صلى الله عليه وسلم) قال سيكون قوم ينالهم الإخصاء فاستوصوا بهم خيرا
البداية والنهاية (8/ 210) رشيدية
ومن أشهر أولاده يزيد وأمه ميسون بنت بحدل بن أنيف بن دلجة بن قنافة الكلبي، وهي التي دخلت على نائلة فأخبرت معاوية عنها بما أخبرته، وكانت حازمة عظيمة الشأن جمالا ورياسة وعقلا ودينا، دخل عليها معاوية يوما ومعه خادم خصي فاستترت منه وقالت: ما هذا الرجل معك؟ فقال: إنه خصي فاظهري عليه، فقالت: ما كانت المثلة لتحل له ما حرم الله عليه، وحجبته عنها
وفي رواية أنها قالت له: إن مجرد مثلتك له لن تحل ما حرمه الله عليه
تاريخ ابن خلدون (2/ 299) دار الفكر
قال وكان لقضاعة ملك آخر في كلب بن وبرة يتداولونه مع السكون من كندة، فكانت لكلب دومة الجندل وتبوك ودخلوا في دين النصرانية وجاء الإسلام الدولة في دومة الجندل لأكيدر بن عبد الملك بن السكون، ويقال إنه كندي من ذرية الملوك الذين ولّاهم التبابعة على كلب، فأسره خالد بن الوليد وجاء به الى النبيّ صلى الله عليه وسلم فصالح على دومة، وكان في أوّل من ملكها دجانة بن قنافة بن عديّ بن زهير بن جناب، قال: وبقيت بنو كلب الآن في خلق عظيم على خليج القسطنطينية منهم مسلمون ومنهم متنصّرون. أهـ الكلام في أنساب قضاعة
توضيح المشتبه (8/ 142) مؤسسة الرسالة
قال: ميسون بنت بحدل الكلبية، والدة يزيد بن معاوية، روت عن معاوية
تاج العروس (16/ 529) دار الهداية
ميسون بنت بحدل بن أنيف، من بني حارثة بن جناب بن هبل، من بني كلب: أم يزيد ابن معاوية بن أبي سفيان، رضي الله عن أبيه، وعليه من الله تعالى ما يستحق، قال الصاغاني: وهي من التابعيات
ویکی پیڈیا
میسون بنت بحدل :اموی خلیفہ معاویہ بن ابو سفیان (دور حکومت 661ء-680ء) کی بیوی تھیں اور ان کے جانشین اور بیٹے یزید بن معاویہ (دور حکومت 680ء-683ء) کی ماں تھیں۔ وہ بنو کلب (قبیلہ) کے ایک حکمران قبیلے سے تعلق رکھتی تھی، ایک قبیلہ جو صحرائے شام پر غلبہ رکھتا تھا۔ معاویہ بن ابو سفیان کی اس سے شادی نے قبیلے کے ساتھ اس کے اتحاد پر مہر ثبت کردی۔ میسون بنت بحدل کو عربی زبان کی ابتدائی تصدیق شدہ خواتین شاعروں میں سے ایک کے طور پر بھی شہرت حاصل ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ شہرت اسی نام کی ایک اور خاتون، میسون بنت جندل کی ہے۔ بنو کلب اور بحدل کا خاندان فتوحات کے وقت مسیحی تھے اور یہ معلوم نہیں کہ معاویہ بن ابو سفیان سے شادی کے بعد میسون بنت بحدل مسیحی رہی یا نہیں۔ مؤرخ موشے شیرون کا خیال ہے کہ یہ مشکوک ہے کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس