احادیث مبارکہ کی روشنی میں خواتین کےلئے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے مقابلہ میں اپنی قیام گاہ (گھر، ہوٹل وغیرہ) میں نماز پڑھنا افضل ہے، اس لیے خواتین کوچاہئے کہ نماز باجماعت میں شرکت کی نیت سے مسجدِ حرام یا مسجد نبوی جانے کے بجائے طواف کےلئے یا صلوٰۃ وسلام پیش کرنے کی غرض سے آئیں اور اس دوران جماعت کا وقت قریب ہو تو خواتین کے حصے میں نماز میں شریک ہوسکتی ہیں۔
المعجم الأوسط (9/ 48) دار الحرمين
عن أم سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاة المرأة في بيتها خير من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في حجرتها خير من صلاتها في دارها، وصلاتها في دارها خير من صلاتها خارج»
الفتاوى الهندية (1/ 89) دار الفكر
وكره لهن حضور الجماعة إلا للعجوز في الفجر والمغرب والعشاء والفتوى اليوم على الكراهة في كل الصلوات لظهور الفساد. كذا في الكافي وهو المختار. كذا في التبيين