بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حرام مال کی ڈیلیوری کرنا

سوال

حضرت ہم آپ کی راہ نمائی ایک اہم مسئلے میں حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے دیندار ساتھیوں میں نزاع کا باعث بن رہاہے ۔اگر آپ دلائل سے جواب عنایت فرمادیں گے تو یہ اختلاف یا شکوک ختم ہوجائیں گے۔ہمارے یہاں بہت سارے نوجوان مسلمان ملازمت کے فقدان کی وجہ سے کھانے کی ڈیلیوری کا کام کرنے پر مجبور ہیں جس میں انہیں حلال وحرام کھانے اور کبھی کبھی کھانے کے ساتھ کوئی شراب وغیرہ بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا پڑ جاتی ہے کیونکہ مسلمان یہاں صرف دو فیصد سے بھی کم تعداد میں ہیں ۔ اس لیے اکثر کھانے غیر مسلموں کےلیے ہی لے جانا پڑتے ہیں جو حلال نہیں ہوتے۔
کیا ایسی ڈیلیوی کا کام کرنا اور اس ڈیلیوری کا معاوضہ لینا ہمارے لیے حلال ہوگا۔ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ حرام کام میں تعاون بھی گناہ کا سبب ہے لہذا صورت مسئولہ میں شراب کی ڈیلیوری کرنا اور اس کے بدلے اجرت لینا نا جائز ہے ۔ اول تو چاہیے کہ اسکے متبادل حلال روزگار ڈھونڈے یا ادارے سے درخواست کرکے حرام ڈیلیوری سے بچنے کی کوشش کرے اور جو رقم اس ڈیلیوری کے بدلے میں ملی ہے اسے بغیر ثواب کے صدقہ کردے۔
أحكام القرآن للجصاص (3/ 296)
وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى۔
سنن أبي داود (3/ 326)
عن أبي علقمة، مولاهم وعبد الرحمن بن عبد الله الغافقي، أنهما سمعا ابن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه»۔
رد المحتار(9/645،646)رشیدیۃ
(قوله وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه ” لأنه – عليه الصلاة والسلام – «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها»۔
بذل المجہود فی حل ابی  داؤد(1/133)رشیدیۃ
واما اذا کان عند رجل مال خبیث، فاما ان ملکہ بعقد فاسد او حصل لہ بغیر ع0قد ، ولا یمکنہ ان یردہ الی مالکہ ،ویرید     ان یدفع مظلمۃ عن نفسہ ،فلیس لہ حیلۃ الا ان یدفعہ الی الفقراء ۔۔۔ ولکن لا یرید بذلک الاجر والثواب ، ولکن یرید دفع المعصیۃ عن نفسہ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس