بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حرام مال کو اپنے اصول وفروع پر صدقہ کرنا

سوال

ایک شخص کی ملکیت میں مال حرام آجائے اب اس پر صدقہ کرنا واجب ہے اب وہ اس مال کو اپنے اصول  فروع پر صدقہ کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کی ملکیت میں حرام مال آجائے تو اس مال کا صدقہ کرنا واجب ہے۔فقہاء ِکرام کی عبارتوں سے واجب التصدق کی تصریح سے استنباط کر کے بعض اہل ِفتویٰ نے ایسے اموال کے صدقہ کرنے میں زکوٰۃ کی طرح تملیک شرط قرار دی ہے۔اس مؤقف کے مطاق ایسی رقوم  فقراء کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔تاہم  دارالعلوم کراچی کی تحقیق کے مطابق ایسی رقم کا صدقہ تو واجب ہے لیکن تملیک شرط نہیں۔ لہذا رفاہ ِعامہ کے کاموں میں بھی صرف کرنا جائز ہے۔اس تحقیق میں ایسے اموال کو لقطہ کے حکم پر قیاس  کر کے  یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔اور لقطہ کے تصدق  میں اصول و فروع پر بھی صدقہ کرنے کی گنجائش ہے۔لہٰذا اگر کسی کے  پاس حرام  مال ہو تو ہ صدقہ کے طور پر اپنی اولاد کو بھی دے سکتا ہے بشرطیکہ اولاد کو دینے میں اس رقم سے خود استفادہ نہ کر رہا ہو یعنی اولاد میں سے کوئی مستحق ہے اور وہ والد یا والدہ اس کے عیال میں سے نہ ہوں تو ایسی رقم اولاد  میں سے کسی کو دینے کی گنجائش  ہے۔
حاشیہ کتاب الاختیار لتعلیل المختار
 (وینتفع بھا ان کان فقیرا) کغیرہ من الفقراء، ویعطیھا اھله ا ان کانوا  فقراء لما مر
درر الحکام فی شرح غرر االاحکام(2/528) رشیدیة
(فینتفع الرافع)بھا (لو فقیرا والا تصدق بھا)علی فقیر(ولو علی اصله )من الاٰباء ولامھات الفقراء(وفرعه)من الاولادواولادھم الفقراء(وعرسه)الفقیرۃ
الدر المختار(4/279) سعيد
(فینتفع) الرافع (بھا لو فقیرا والا تصدق بھا  علی فقیر ولو علی اصله وفرعه وعرسه)
 فتاویٰ عثمانی(3/133)معارف القرآن
فقہاء حنفیہ کی تصریحات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہےکہ جو ملک خبیث واجب التصدق ہو  وہ مصرف کے لحاظ سے من کل الوجوہ زکوٰۃ کی طرح نہیں بلکہ متعدد جہات سے زکوٰۃ اور واجب التصدق کے مصرف میں فرق ہے،مثلا یہ بات تمام فقہاء حنفیہ نے کہ مال متصدق اپنی بیوی اور اولاد کو بھی دے سکتا ہےچنانچہ علامہ حموی لکھتے ہیں
لو کان غنیا لم یحل لہ ذلک بل یتصدق  علی الفقیر اجنبیا  ولو زوجۃ او قریبا ولو اصلا او فرعاکما فی التنویر ۔

فتاوی عثمانی (3/135)معارف القرآن

اس سے بات واضح ہوئی  کہ واجب التصدق مال کے مصرف کو من کل الوجوہ زکوٰۃ کے مصرف کے مثل سمجھنا درست  نہیں ۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس