بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حرام مال سے خریدی ہوئی چیز کو استعمال کرنا

سوال

اگرکسی کےگھر میں کچھ سامان (جیسے گیزر) اس کے والد کی طرف سے ہو اور وہ شخص جانتاہے کہ وہ جوے کے پیسے سے خریدا گیا تھا۔ کیایہ شخص اس کا استعمال ترک کردے ؟

جواب

آپ کے والد نے حرام مال (جوئے کے پیسے)سے جو گیزر خریدا تھا آپ کے لئے اس کے استعمال کی فی نفسہ ٖگنجائش ہے ۔ البتہ آپ کے والد پر لازم ہے کہ وہ جوئے کی رقم اصل مالک تک پہنچائے اور اگر مالک معلوم نہ ہو تو یہ رقم فقراء پر بلا نیت ثواب صدقہ کردیں۔
الموسوعة الفقھیة (36/39)علوم اسلامیه، جمن
اذا کان المال الذی فی یدی المسلم حراما فانه لا یجوز له امساکه ویجب علیه التخلص منه۔
شامیۃ(2/292) سعید
ففي البزازية قبيل كتاب الزكاة: ما يأخذه من المال ظلما ويخلطه بماله وبمال مظلوم آخر يصير ملكا له وينقطع حق الأول فلا يكون أخذه عندنا حراما محضا، نعم لا يباح الانتفاع به قبل أداء البدل في الصحيح من المذهب۔
شامیۃ(5/235) سعید
(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول۔۔۔۔وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس