بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حرام مال سے حق مہر دینا اور خریدی ہوئی چیزوں کو استعمال کرنا

سوال

حرام مال سے ادا کیے گئے حق مہر کا کیا حکم ہے؟ اور اسی طرح اگرکوئی خریدار کسی چیز کی قیمت کی ادائیگی حرام مال سے کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر بیوی کو اس بات کا علم ہے کہ اس کو جو مہر دیا گیا ہے وہ عین حرام مال سے دیاگیا ہے توبیوی کےلیے اس مال کا استعمال درست نہیں شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو حلال مال میں سے مہر ادا کرے اور اس مالِ حرام کو اصل مالک تک لوٹادے ۔اوراگر یہ ممکن نہ ہوتو اس مال کو بغیر نیت ثواب اصل مالک کی طرف سے صدقہ کردے ۔
اسی طر ح حرام مال سے خریدی ہوئی چیز کا استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ اس چیز یا اس کی قیمت کا صدقہ بغیر نیتِ ثواب کرنا ضروری ہے ۔ اگر چیز مکمل حرام مال دے کر خریدی تو اس کا بعینہ تصدق بہتر ہے تاہم چیز کی موجودہ مالیت کا تصدق بھی کافی ہے اور اگر حلال وحرام ملا کر خریدی تو حرام مال کے بقدر صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
قال الله سبحانه وتعاليٰ
{وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ} [النساء: 2]
الهداية (3/ 520)بشریٰ کراچی
ثم هذا ظاهر فيما يتعين بالإشارة، أما فيما لا يتعين كالثمنين فقوله في الكتاب: اشترى بها إشارة إلى أن التصدق إنما يجب إذا اشترى بها ونقد منها الثمن. أما إذا أشار إليها ونقد من غيرها أو نقد منها وأشار إلى غيرها أو أطلق إطلاقا ونقد منها يطيب له، وهكذا قال الكرخي – رَحِمَهُ اللَّهُ -؛ لأن الإشارة إذا كانت لا تفيد التعيين لا بد أن يتأكد بالنقد لتحقق الخبث وقال مشايخنا – رَحِمَهُمُ اللَّهُ – لا يطيب له قبل أن يضمن، وكذا بعد الضمان بكل حال وهو المختار لإطلاق الجواب في الجامعين والمبسوط۔
رد المحتار (6/ 190)سعید
ولو اشترى بألف الغصب أو الوديعة جارية تعدل ألفين، فوهبها أو طعاما فأكله، أو تزوج بأحدهما امرأة أو سرية أو ثوبا حل الانتفاع، ولا يتصدق بشيء اتفاقا؛ لأن الحرمة عند اتحاد الجنس اهـ ونحوه في القهستاني ونقل ط عن الحموي عن صدر الإسلام: أن الصحيح لا يحل له الأكل ولا الوطء؛ لأن في السبب نوع خبث اهـ فليتأمل
الموسوعة الفقهية الكويتية (39/ 156)مکتبه علوم اسلامیه، چمن
 إذا كان المال الذي في يد المسلم حراما فإنه لا يجوز له إمساكه ويجب عليه التخلص منه
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 247)
الحرمة تتعدى في الأموال مع العلم بها، إلا في حق الوارث فإن مال مورثه حلال له وإن علم بحرمته منه، من الخانية، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموالمن قبل يد غيره فسق إلا إذا كان ذا علم وشرف، كذا في مكفرات الظهيرية
رد المحتار على الدر المختار (2/ 292)سعید
ا  لا أن يجاب بأن المراد ليس هو نفس الحرام؛ لأنه ملكه بالخلط، وإنما الحرام التصرف فيه قبل أداء بدله ففي البزازية قبيل كتاب الزكاة: ما يأخذه من المال ظلما ويخلطه بماله وبمال مظلوم آخر يصير ملكا له وينقطع حق الأول فلا يكون أخذه عندنا حراما محضا، نعم لا يباح الانتفاع به قبل أداء البدل في الصحيح من المذهب
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس