بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حرام آمدنی والے سے ہدیہ لینا،جائز معاملہ کرکے عوض لینا

سوال

جس شخص کی آمدنی ناجائز ذرائع مثلا عقود فاسدہ یا باطلہ سے حاصل ہوئی ہو ، تو ایسے شخص سے ہدیہ لینا ، یا اس کے ساتھ کوئی جائز معاملہ کرکے اس کا عوض لینا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر کسی شخص کی آمدنی کا اکثر حصہ یا کل حرام ہو تو اس کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے لیکن اگر وہ شخص کہہ دے کہ یہ حلال کمائی میں سے ہے یا مجھے میراث میں ملا ہے یا میں نے کسی سے قرض لیا ہے تو پھر ہدیہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر خریدوفروخت میں وہ شخص مال حرام دے تو علم ہوتے ہوئے اس کا لینا جائز نہیں بلکہ اس سے حلال مال کا مطالبہ کیا جائے گا ۔
الدر المختار (5/ 98) سعید
وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعددمع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال، وسنحققه ثمة۔
حاشية ابن عابدين (5/ 98) سعید
(قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ۔
الفتاوى الهندية (5/ 342)
(الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات) أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع۔
وفيه ايضا
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس