بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حدیث اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمہیں اٹھا کر ایسی قوم لے آتا جو گناہ کرتی اور اللہ ان کو بخش دیتا کی تحقیق اور تشریح

سوال

رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات پر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر تم گناہ نہ کرتے ہو اللہ تمہیں اٹھا کر ایسی قوم کو لے آتا جو گناہ کرتی اور اللہ سے مغفرت طلب کرتی تو اللہ ان کو بخشش دیتا ۔ (صحیح مسلم کتاب التوبہ حدیث ۲۷۴۹) کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اس کا مفہوم و مطلب واضح فرمادیں؟

جواب

حدیث کی تحقیق

مذکورہ حدیث مبارکہ صحیح ہے اور (صحیح مسلم کتاب التوبہ ۲/۳۵۵/باب سقوط الذنب بالتوبۃ ) میں مذکور ہے۔ اس حدیث مبارکہ میں گناہ گاربندو ں کےلئے تسلی اور اللہ تعالی کی رحمت کا بیان ہے کہ گناہ جتنے بھی ہوں توبہ اور استغفار سے معاف ہو جا تےہیں ۔اور اللہ تعالی کی ایک صفت غفار ہے ،گناہوں کو بخشنا اللہ تعالی کی اس صفت کا مظہر ہے۔ تاہم واضح رہے کہ اس سے ہرگز گناہوں پر جرات کرنا مراد نہ لیا جائے کیونکہ اللہ تعالی نے اس سے صراحت کے ساتھ منع فرمایاہے
( الانعام120)
قل إنما حرم ربي الفواحش ما ظهر منها وما بطن والإثم والبغي بغير الحق وأن تشركوا بالله ما لم ينزل به سلطانا وأن تقولوا على الله ما لا تعلمون
صحيح مسلم(۲/۳۵۵)یادگار شیخ
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم، ولجاء بقوم يذنبون، فيستغفرون الله فيغفر لهم
تکملہ فتح الملہم (۶/۸)مکتبہ معارف القران
(يغفر لهم )اي باستغفار هم على ماهو الاصل  وفيه تسلية للمذنبين النادمين بان  استغفارهم  و تو بتهم تمحو السيئات ،ومعنى الحديث واضح لان الله سبحانه خلق هذا الخلق بمافيه من خير وشر لحكم هو اعلم بها  فخلق الذنوب فيه حكمة كما ان خلق الحسنات فيه حكمة ولا يجترء به  الانسان على الذنوب لان الله سبحانه حرمها صراحة
اکمال المعلم علي فوائد مسلم ،  لقاضي عياض مالكي ؒ(۸/۲۴۷۹) بیروت
هذا من فضل الله العظيم و من كرمه الجسيم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس