نمبر۱۔خواب کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
نمبر۲۔کیا خواب کی تعبیر جو ہو گی اسی طرح ہو گا؟
نمبر۳۔کیا مختلف بندوں نے ایک ہی خواب دیکھا ہے تو کیا سب کی تعبیر ایک ہی ہو گی یا مختلف ہو گی؟
نمبر۴۔کسی ماہر عالم دین سے پوچھے بغیر کیا کسی کتاب سے تعبیر کو لینا درست ہے؟
نمبر۵۔آج کل مختلف گروپوں میں خوابوں کی تعبیرات ک شائع کرنے کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے، جس سے ہر بندہ اپنی خواب کی تعبیر یہی اخذ کرتا ہے تو کیا اس طرح ایک تعبیر کو مختلف لوگوں میں شائع کرنا درست ہے؟ برائے مہربانی قرآن وسنت کے مطابق جواب دے کر ثواب دارین حاصل کریں۔
نمبر۱۔انبیاء علیہم السلام کے علاوہ خواب شرعاً کسی کے حق میں بھی حجت نہیں ہوتے ہیں یعنی ان سے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہو سکتاہے اور ہر خواب با معنی اور تعبیر والا نہیں ہوتاہے۔البتہ مومن کے اچھے خواب بشرات یعنی خوشخبری میں سے ہیں۔
نمبر۲۔ خواب کے بتائی ہوئی تعبیر کے مطابق واقع ہونے میں محدثین کی آراء مختلف ہیں۔ علامہ نووی رحمہ اللہ کے ہاں خواب تعبیر کے مطابق واقع ہوتا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں تعبیر کے مطابق واقع ہونا ضروری نہیں۔
نمبر۳۔خواب کی تعبیر میں خواب دیکھنے والےکے احوال،جنس وکیفیات اور خیالات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ مختلف لوگوں کا ایک ہی خواب دیکھنےسے اس کی تعبیر ایک ہی ہو۔
نمبر۴۔ خواب کی تعبیر کسی ماہر دیندار اور مستند عالم سے پوچھنی چاہئے ،خود کسی کتاب سے تعبیر نہیں لینی چاہئے ۔نیز ہر وقت تعبیر لینا کوئی ضروری نہیں ہے۔
نمبر۵۔خواب اور اس کی تعبیر کوعمومی طور پر شائع کرنا مستحسن نہیں ہے۔ کیونکہ خواب کی تعبیر میں خواب دیکھنے والے کے احوال وغیرہ کا بڑا دخل ہے ۔اس سے ایک جیسا نتیجہ نکالنے سے نقصان یا فساد اعتقاد کا اندیشہ ہے۔
سنن أبي داود (4/ 304) العصرية
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ” إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المؤمن أن تكذب، وأصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا، والرؤيا ثلاث: فالرؤيا الصالحة بشرى من الله، والرؤيا تحزين من الشيطان، ورؤيا مما يحدث به المرء نفسه، فإذا رأى أحدكم ما يكره، فليقم، فليصل ولا يحدث بها الناس
بذل المجهول (19/132)رشيدية
(واصدقهم رؤيا أصدقهم حديثاً والرؤيا ثلاث : فالرؤيا الصالحة) أي الحسنة أو الصادقة( بشرى من الله، والرؤيا ) الثانية ( تحزين من الشيطان ورؤيا) الثالثة( مما يحدث به المرء) أي ما يتحدث في اليقظة، ويخلد في قلبه ففي الرؤيا يراها( نفسه، فإذا رأى أحدكم ما يكره فليقم) من مضجعه( فليصل)الصلاة( ولا يحدث بها الناس
سنن أبي داود (4/ 305) العصرية
عن وكيع بن عدس، عن عمه أبي رزين، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الرؤيا على رجل طائر، ما لم تعبر فإذا عبرت وقعت» قال: وأحسبه قال: «ولا تقصها إلا على واد، أو ذي رأي
بذل المجهول (19/133)رشيدية
(قال رسول الله ﷺ: الرؤيا على رجل طائر) أي كأنه معلق على رجل طائر ليس له قرار( ما لم تعبر فإذا عبرت وقعت )أي تعبيرها ( قال: وأحسبه قال: ولا تقصها إلا على واداو ذي رأي ). قال الخطابي : قوله على رجل طائر مثل، ومعناه أنه لا يستقر قرارها ما لم يعبر وقال أبو إسحاق الزجاج: في قوله( لا تقصها إلا على واد أو ذي رأي) الواد الذي لا يحب أن يستقبلك في تعبيرها إلا ما تحب ، وإن لم يكن عالماً بالعبارة، ولم يعجل لك ما يغمك لا أن تعبيرها يزيلها عما جعلها الله عليه، وأما ذو الرأي فمعناه: ذو العلم بعبارتها، وأنه يخبرك بحقيقة تفسيرها أو بأقرب ما يعلم منها فلعله أن يكون في تفسيره موعظة يردعك عن قبيح أنت عليه أو يكون فيه بشری فتشكر الله عز وجل على النعمة فيها انتهى
تكملة فتح تاملهم(4/ 259) دار العلوم
قوله : «الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ» : قال الأبي : الحلم (بضم الحاء) اسم لما يراه النائم، لكن غلب اسم الرؤيا على ما يراه من الخير والشيء الحسن، وغلب الحلم على ما يراه من الشر والقبيح. وقد يستعمل كل منهما موضع الآخر». أما إضافة الرؤيا إلى الله تعالى، وإضافة الحلم إلى الشيطان، ففسره العلماء بطرق مختلفة. فقال القرطبي: إنه أضيف الحلم إلى الشيطان من حيث إنه من إلقاء الشيطان يخوف به الرائي ويُحزن، وحاصله أن الرؤيا القبيحة أيضاً وإن كانت من خلق الله تعالى وتقديره، ولكن الشيطان يسببها كسائر الأفعال القبيحة، وهذا النوع هو المأمور بالاستعاذة منه ؛ لأنه من تخيلات الشيطان وتشويشاته. فإذا استعاذ منه الرائي صادقاً في التجائه إلى الله تعالى ونفث عن يساره ثلاثاً، وتحول عن جنبه كما أمر في الحديث : أذهب الله عنه ما يخاف من مكروه. كذا نقله الأبي
و فيه أيضاً
قوله 🙁 وَلَا يُخْبِرُ بِهَا أَحداً )قال النووي رحمه الله : سببه أنه ربما فسرها تفسيراً مكروهاً على ظاهر صورتها، وكان ذلك محتملاً، فوقعت كذلك بتقدير الله تعالى، فإن الرؤيا على رجل طائر .ومعناه أنها إذا كانت محتملة وجهين، ففسرت بأحدهما وقعت على قرب تلك الصفة
وهذه الحكمة التي ذكرها النووي رحمه الله مبنية على القول بأن الرؤيا تقع موافقة لأول تعبير تعبر به، وقد ورد في ذلك أحاديث، منها ما أخرجه أبو داود والترمذي وابن ماجه بسند حسن عن أبي رزين العقيلي مرفوعاً : الرؤياً على رجل طائر ما لم تُعبّر، فإذا عبرت وقعت . وما أخرجه عبد الرزاق عن أبي قلابة مرسلاً : الرؤيا تقع على ما يعبر . مثل ذلك مثل رجل رفع رجله فهو ينتظر متى يضعها .ولكن قيده الإمام البخاري بما إذا كان المعبر مصيباً . أما إذا أخطأ في التعبير، فلا تقع الرؤيا على تعبيره، وعلى هذا عقد البخاري بابا في الصحيح وترجمه بقوله : «باب من لم ير الرؤيا لأول عابر إذا لم يُصب». واستدل عليه بحديث ابن عباس أن رجلاً سأل رسول الله ﷺ عن رؤيا رآها ، فعبرها أبو بكر رضي الله عنه بإذنه ، ثم سأله: فأخبرني يا رسول الله، بأبي أنت أصبت أم أخطاتُ ؟ قال النبي : أصبت بعضاً وأخطأت بعضاً . ووجه الاستدلال أن الخطأ في التعبير إنما يقال إذا لم يقع ما عبر به، فتصريح النبي ﷺ بخطأ أبي بكر في بعض ما عبر به يدل على أن بعض الذي سيقع يكون مخالفاً لتعبيره، ولو كان الواقع عين ما عبر به المعبر الأول، سواء كان تعبيراً خاطئاً : لوقع مثل الذي عبر به أبو بكر . وعلى ما حققه البخاري لا يتجه ما ذكره النووي من حكمة النهي عن الإخبار بالرؤيا المكروهة؛ لأن الرجل إذا عبر الرؤيا تعبيراً خاطئاً فإنه لا يقع على تعبيره. وحينئذ، فلعل الحكمة في النهي عن الإخبار أن السامع إذا عبرها بتعبير مكروه فإن ذلك يزيد الرائي حزناً وخوفاً
الاعتصام للشاطبي (1/ 332) دار ابن عفان
لأن الرؤيا من غير الأنبياء لا يحكم بها شرعا على حال؛ إلا أن تعرض على ما في أيدينا من الأحكام الشرعية، فإن سوغتها عمل بمقتضاها، وإلا؛ وجب تركها والإعراض عنها، وإنما فائدتها البشارة أو النذارة خاصة، وأما استفادة الأحكام؛ فلا
معارف القرآن(۵/۲۲)معارف القرآن کراچی
مسئلہ:آیت (قال يبنى لاتقصص رءياك) میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان کرنے سے منع فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ خواب ایسے شخص کے سامنے بیان نہ کرنا چاہیے جو اس کا خیر خواہ اور ہمدرد نہ ہو، اور نہ ایسے شخص کے سامنے جو تعبیرِ خواب میں ماہر نہ ہو۔
جامع ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :… خواب معلق رہتا ہے جب تک کسی سے بیان نہ کیا جائے جب بیان کر دیا گیا اور سننے والے نے کوئی تعبیر دیدی، تو تعبیر کے مطابق واقع ہو جاتاہے ، اس لیے چاہیے کہ خواب کسی سے بیان نہ کرے، بجز اس شخص کے کہ جو عالم و عاقل ہو یا کم از کم اس کا دوست اور خیر خواہ ہو۔
مسئلہ: خواب کی تعبیر خواب پر موقوف رہنے کا مطلب تفسیر مظہری میں یہ بیان فرمایا کہ بعض تقدیری امور تقدیر مبرم یعنی قطعی نہیں ہوتے، بلکہ معلق ہوتے ہیں کہ فلاں کام ہو گیا تو یہ مصیبت ٹل جائے گی، اور نہ ہوا تو یہ پڑ جائے گی، جس کو قضائے معلق کہا جاتا ہے ایسی صورت میں بری تعبیر دینے سے معاملہ برا اور اچھی تعبیر سے اچھا ہو جاتا ہے،اس لیے ترمذی کی حدیث مذکور میں ایسے شخص سے خواب بیان کرنے کی ممانعت کی گئی ہے جو عقلمند نہ ہو یا اس کا خیر خواہ و ہمدرد نہ ہو، اور یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ خواب کی کوئی بری تعبیر سن کر انسان کے دل میں یہی خیال جمتا ہے کہ اب مجھ پر مصیبت آنے والے ہے،اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا :” انا عندى ظن عبدي بي” یعنی بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرتا ہے میں اس کے حق میں ویسا ہی ہو جاتا ہوں۔ جب اللہ کی طرف سے مصیبت آنے پر یقین کر بیٹھا تو اس عادۃ اللہ کے مطابق اس پر مصبیت آنا ضروری ہو گیا۔
مسئلہ: تفسیر قرطبی میں ہے کہ عبد اللہ بن شداد بن الہاد نے فرمایا کہ یوسف علیہ السلام کے اس خواب کی تعبیر چالیس سال بعد ظاہر ہوئی ، اس سے معلوم ہوا کہ تعبیر کا فوراً ظاہر ہو نا کوئی ضروری نہیں۔
تعبیر الرؤیا(ص:۷۰) محمودیہ
حکایت :بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ میں نماز کے لئے اذان کہتا ہوں ۔ آپ نے جواب دیا کہ تم اسلامی حج کرو گے۔ پھر اسی وقت ایک دوسرا شخص آیا۔ اس نے سوال کیا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو نماز کے لئے اذان کہتے دیکھا ہے آپ نے تعبیر بیان کی کہ تم پر چوری کی تہمت لگائی جائے گی۔
شاگردوں نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ دونوں کے خواب کی ایک ہی صورت ہے کہ دونوں شخص خواب میں اذ ان نماز دیتے ہیں۔ دونوں کی تعبیر میں اختلاف کیوں ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ پہلے شخص کے چہرے سے نیک بختی کے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ میں نے کہا کہ تم حج کرو گے ۔ حق تعالی کا ارشاد ہے: ( واذن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا ) (الحج ۲۷) ” اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو۔ تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے ۔ ” اور میں نے دوسرے شخص میں فساد اور مخالفت کے نشانات دیکھے تھے۔ میں نے تعبیر بیان کی کہ تم کو چوری میں پکڑیں گے ۔ حق تعالی کا ارشاد ہے: ثُمَّ اذنَ مُؤَذِن أَيتها الْعِيرُ إِنَّكُمْ لسرقونَ . (يوسف: (۷۰) یعنی پھر ایک منادی کرنے والے نے یہ منادی کی کہ اے قافلہ والو ا تم ضرور چور ہو۔
تعبیر الرؤیا(ص:۷۷) محمودیہ
عدید الحدیث میں ہے کہ احمد بن سعد حضرت ابو عبیدہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے گھر کی چھت کا ستون مجھ پر ٹوٹا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تیرا شوہر سفر سے آئے گا۔ دوسری نے بھی یہی خواب دیکھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے تعبیر پوچھی۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا شوہر مرے گا۔ دونوں عورتوں کا خواب واحد تھا۔ لیکن وقت کے تعبیر سے تعبیر مختلف ہوئی۔