والدین کاگزشتہ سال حج پرجانےکاارادہ تھا اوروہ بھی سرکاری سکیم کےتحت۔ انہوں نےجمادی الأولیٰ 1435 ھ میں اپنےپاس پانچ لاکھ روپےجمع کیےاوررجب 1435ھ کوحج فارم کےساتھ سرکار کےپاس وہ پیسےجمع کروائے، مشیت الہی سےگزشتہ سال ان کاقرعہ نہیں نکلا جس بناء پر وہ فريضہ حج کی ادائیگی نہیں کرسکےجبکہ گورنمنٹ نےان کےجمع شدہ پیسےذو الحجہ سےپہلے واپس کردئیےہیں اوراس سال دوبارہ ارادہ ہےحج پر جانےکا اورفارم پیسےجمادی الأخرۃ یارجب میں جمع ہوں گے ۔ آیا ان جمع شدہ رقم پرزکوٰۃ ہوگی یانہیں؟
واضح رہےکہ حج کےارادہ سےجمع کی گئی رقم کی وجہ سےادائیگی زکوٰۃ کےوجوب میں کوئی فرق نہیں پڑتابلکہ قمری مہینےکےحساب سےسال مکمل ہونےپر دوسرے اموال ِزکوٰۃ کی طرح حج کےلئےجمع شدہ رقم پر بھی زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہوتی ہے۔اورصورتِ مسئولہ میں اس سال کی قرعہ اندازی سےقبل چونکہ زکوۃ کاسال پوراہوجائیگا اس لئے کل جمع شدہ رقم پرآپ کوزکوۃ اداکرناہوگی بشرطیکہ اس میں سےکچھ رقم خرچ نہ ہوئی ہو اگراس میں سےکچھ رقم خرچ کرلی گئی ہوتوبقیہ رقم کاحساب لگاکرزکوۃ نکالنی ہوگی۔