بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حج کےلئےجمع شدہ رقم پرزکوٰۃ

سوال

والدین کاگزشتہ سال حج پرجانےکاارادہ تھا اوروہ بھی سرکاری سکیم کےتحت۔ انہوں نےجمادی الأولیٰ 1435 ھ میں اپنےپاس پانچ لاکھ روپےجمع کیےاوررجب 1435ھ کوحج فارم کےساتھ سرکار کےپاس وہ پیسےجمع کروائے، مشیت الہی سےگزشتہ سال ان کاقرعہ نہیں نکلا جس بناء پر وہ فريضہ حج کی ادائیگی نہیں کرسکےجبکہ گورنمنٹ نےان کےجمع شدہ پیسےذو الحجہ سےپہلے واپس کردئیےہیں اوراس سال دوبارہ ارادہ ہےحج پر جانےکا اورفارم پیسےجمادی الأخرۃ یارجب میں جمع ہوں گے ۔ آیا ان جمع شدہ رقم پرزکوٰۃ ہوگی یانہیں؟

جواب

حج کے لیے جمع شدہ رقم

واضح رہےکہ حج کےارادہ سےجمع کی گئی رقم کی وجہ سےادائیگی زکوٰۃ کےوجوب میں کوئی فرق نہیں پڑتابلکہ قمری مہینےکےحساب سےسال مکمل ہونےپر دوسرے اموال ِزکوٰۃ کی طرح حج کےلئےجمع شدہ رقم پر بھی زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہوتی ہے۔اورصورتِ مسئولہ میں اس سال کی قرعہ اندازی سےقبل چونکہ زکوۃ کاسال پوراہوجائیگا اس لئے کل جمع شدہ رقم پرآپ کوزکوۃ اداکرناہوگی بشرطیکہ اس میں سےکچھ رقم خرچ نہ ہوئی ہو اگراس میں سےکچھ رقم خرچ کرلی گئی ہوتوبقیہ رقم کاحساب لگاکرزکوۃ نکالنی ہوگی۔
الدر المختار ،علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ)(2/ 259 )سعيد
وسببه أي سبب افتراضها ملك نصاب حولي نسبة للحول لحولانه عليه تام… خرج مال المكاتب… فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا، بخلاف دين نذر وكفارة وحج لعدم المطالب، ولا يمنع الدين وجوب عشر وخراج۔
الدر المختار (6/ 10)سعيد
و اعلم أن الأجر لا يلزم بالعقد فلا يجب تسليمه به بل بتعجيله أو شرطه في الإجارة المنجزة، أما المضافة فلا تملك فيها الأجرة بشرط التعجيل إجماعا… أو الاستيفاءللمنفعة أو تمكنه منه إلا في ثلاث مذكورة في الأشباه۔
رد المحتار، ابن عابدينالشامي(م: 1252هـ)(6/ 10)سعيد
(قوله لا يلزم بالعقد) أي لا يملك به كما عبر في الكنز؛ لأن العقد وقع على المنفعة وهي تحدث شيئا فشيئا وشأن البدل أن يكون مقابلا للمبدل، وحيث لا يمكن استيفاؤها حالا لا يلزم بدلها حالا إلا إذا شرطه ولو حكما بأن عجله؛ لأنه صار ملتزما له بنفسه حينئذ وأبطل المساواة التي اقتضاها العقد فصح…(قوله أو تمكنه منه) في الهداية: وإذا قبض المستأجر الدار فعليه الأجرة وإن لم يسكن۔
   الفتاوى الهندية (1/ 173 )دارالفکر
 وكل دين لا مطالب له من جهة العباد كديون الله – تعالى – من النذور والكفارات وصدقة الفطر ووجوب الحج لا يمنع۔
    رد المحتار، ابن عابدينالشامي(م: 1252هـ)(2/262 )سعید
إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان  الحول۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

3

/

67

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس