بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حالتِ حیض میں ہم بستری کرنا

سوال

کوئی شخص حالت حیض میں اپنی شرمگاہ اپنی بیوی کی شرمگاہ میں اس طرح داخل کرےکہ درمیان میں کپڑا حائل ہو،یعنی مرد اپنی شرمگاہ کپڑے کے ساتھ عورت کی شرمگاہ میں داخل کرے تو کیا اس سے مرد پر غسل لازم ہو گا یا نہیں؟اور اس طرح کرنے سے مرد گناہ گار ہو گا یا نہیں؟

جواب

حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنا حرام ہے خواہ کپڑا حائل ہو یا نہ ہو۔البتہ کپڑے کے ساتھ جماع کی صورت میں اگر انزال ہو گیا یا جماع کی لذت پائی جائے تو غسل فرض ہو جائےگا، اور اگر ایسا نہ ہو تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق غسل واجب نہیں ہوگا، مگر احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ غسل کرلیا جائے۔اور میاں بیوی دونوں پر واجب ہے کہ کثرت سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسے فعل سے اجتناب کریں۔بلکہ مستحب یہ ہےکہ ایک دینار (4.374 گرام سونے کا سکہ)یا اس کی قیمت صدقہ کرے یا نصف دینار یا اس کی قیمت صدقہ کرے(باعتبار حالت خون کے)۔
الدر المختار (1/ 164)ایچ ایم سعید
(أولج حشفته) أو قدرها(ملفوفة بخرقة، إن وجد لذة) الجماع (وجب) الغسل (وإلا لا) على الأصح والأحوط الوجوب
رد المحتار (1/ 165)ایچ ایم سعید
(قوله: إن وجد لذة الجماع) أي بأن كانت الخرقة رقيقة بحيث يجد حرارة الفرج واللذة بحر.(قوله: وإلا لا) أي ما لم ينزل.(قوله: على الأصح) وقال بعضهم: يجب لأنه يسمى مولجا. وقال بعضهم: لا يجب بحر، وظاهر القولين الإطلاق.(قوله: والأحوط الوجوب) أي وجوب الغسل في الوجهين بحر وسراج
رد المحتار(1/ 292) ایچ ایم سعید
فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل، وكذا بما بينهما بحائل بغير الوطء ولو تلطخ دما
الدر المختار(1/ 297) ایچ ایم سعید
ثم هو كبيرة لو عامدا مختارا عالما بالحرمة لا جاهلا أو مكرها أو ناسيا فتلزمه التوبة؛ويندب تصدقه بدينار أو نصفه
رد المحتار(1/ 297)ایچ ایم سعید
(قوله ثم هو) أي وطء الحائض… قوله ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعا «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار» ثم قيل إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دما أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار
الفتاوى الهندية (1/44)علمية
(ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف. هكذا في السراج الوهاج.فإن جامعها وهو عالم بالتحريم فليس عليه إلا التوبة والاستغفار ويستحب أن يتصدق بدينار أو نصف دينار. كذا في محيط السرخسي
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس