میں نے اپنی بیوی کو ایک ماہ پہلے جھگڑے کے دوران تین مرتبہ پشتو میں طلاق کے الفاظ کہے،جن کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ”تو مجھ پر طلاق ہے ، تو مجھ پر طلاق ہے ، تو مجھ پر طلاق ہے “۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ” تو میری ماں ہے ،تو میری ماں ہے،تو میری ماں ہے “۔اس سے میری نیت حرمت کی تھی ۔ میری بیوی نے اس کے جواب میں تین مرتبہ کہا کہ تو میرا بھائی ہے ، تو میرا بھائی ہے ،تو میرا بھائی ہے۔
صورت ِمسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہوگیا اور حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،لہٰذا اب رجوع نہیں ہوسکتا اورآپس میں نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔ البتہ مطلقہ عورت عدت گذارنے کے بعداگر کسی دوسرے آدمی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں مہر کے ساتھ نکاح کرےاور ہمبستری کے بعد دوسرا شوہر فوت ہوجائےیا ہمبستری کے بعدوہ اسےخودکسی وجہ سے طلاق دیدےتو اس دوسرے شوہرکی عدت گزرنے کے بعد دوبارہ آپ سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو سکتا ہے،اس کے بغیر مطلقہ کاآپ کے ساتھ ملنااورآپ دونوں کا آپس میں میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں ہے بلکہ حرام اور سخت گناہ ہے۔
نیز صورت مسئولہ میں جب تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے تو اس کے بعد ان الفاظ ”تو میری ماں ہے ۔۔۔۔۔”پر کوئی حکم نہیں لگے گا۔ اور”سورۃ مجادلۃ” میں ظہار سے متعلق جس کفارے کا تذکرہ ہے،وہ حکم بھی ان مذکورہ الفاظ پر نہیں لگتا ۔
واضح رہے کہ جو لوگ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیتے ہیں ،ان کا مؤ قف درست نہیں،بلکہ قرآن و سنت اور اجماع امت کے خلاف ہے ۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا آپ کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے ۔
جہاں تک تعلق ہے حلالہ کے حکم کا تو حلالہ مطلقا ناجائز نہیں ہے ،بلکہ اس کی ناجائز صورت یہ ہے کہ دوسری جگہ یہ طے کر کے نکاح کرنا کہ شوہر کچھ عرصہ کے بعد طلاق دےگا، حدیث شریف میں اس پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ جیساکہ آپ کے ارسال کردہ فتویٰ میں “سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ “کی دو حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے، البتہ جو تفصیل اوپر ذکر کی گئی ہےکہ دوسرے آدمی سے شادی اور ہمبستری کے بعد وہ فوت ہو جائے یا کسی وجہ سے طلاق دیدے تو عدت گذار کر پہلے شوہر سے نکاح جائز ہو جاتا ہے ، یہ قرآن وسنت سے ثابت ہے اور ایسا کرنا موجب لعنت نہیں ہے ۔ چنانچہ” صحیح بخاری “میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت موجود ہے “ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس خاتون نے دوسری جگہ شادی کی اور ہم بستری سےپہلے دوسرے شوہر نے اس کو طلاق دیدی تو حضور اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ خاتون اپنے پہلے شوہر سے شادی کرسکتی ہے ؟آپ ﷺ نے ہمبستری کے بغیر پہلے شوہر کے ساتھ شادی کو حرام قرار دیا ۔اسی طرح قرآن کریم(سورة بقرة:آیت نمبر230) سے بھی یہ بات بڑی وضاحت سے معلوم ہوتی ہے کہ تین طلاقوں کے بعد بیوی شوہرپر اس وقت تک حرام ہو جاتی ہے ، جب تک وہ دوسرے شوہر سے نکاح اور ہمبستری نہ کرلے ۔
تفسير القرطبي،شمس الدين محمد بن أحمد(م: 671ھ)(3/ 129)دارالكتب المصرية
قال علماؤنا: واتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع الطلاق الثلاث في كلمة واحدة، وہو قول جمہور السلف۔
التفسير المظہري،قاضي ثناء اللہ(م1225 ھ)(1/ 300)مكتبة الرشيدية
أجمعوا على انہ من قال لامراتہ أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع۔
الصحيح لمحمد بن إسماعيل البخاري(م256 ھ)(7/ 43)دارطوق النجاة
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد اللہ، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأتہ ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى اللہ عليہ وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتہا كما ذاق الأول»۔
السنن لأحمد بن شعيب النسائي (م: 303ھ)(6/142) مكتب المطبوعات الإسلامية
أخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وہب، قال: أخبرني مخرمة، عن أبيہ، قال: سمعت محمود بن لبيد، قال: أخبر رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا ثم قال: «أيلعب بكتاب اللہ وأنا بين أظہركم؟» حتى قام رجل وقال: يا رسول اللہ، ألا أقتلہ؟۔