بندی کے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا ہے، میری کچھ رقم میرے والد صاحب کے پاس تھی اور انہوں نے وہ رقم اپنے ایک بیٹے کے ذریعے کہیں کاروبار میں لگوادی تاکہ وہ بڑھتا رہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد ہم نے ایک مکان خریدا اس وقت اپنے والد صاحب سے کہا کہ اس کی ادائیگی کر نی ہے ، میری رقم مجھے مل جائے تو ادائیگی ہوجائے گی، فرمایا کہ ابھی فوراً ممکن نہیں، پھر میں نےعرض کیا کہ اس کی ادائیگی کہاں سے اور کیسے ہوگی؟ تو فرمایا کہ اللہ کرائے گا۔ خیر جب لین دار کی طرف سے شدید تقاضہ ہوا تو والد صاحب نے رقم دی اور فرمایا کہ یہ دیدو، پھر کچھ عرصہ بعد انہوں نے فرمایا کہ جو رقم مکان کے لیے دی تھی وہ رقم تم نے واپس کرنی ہے، تو میں نے والد صاحب سے عرض کیا کہ میں کہاں سے دوں گی؟ تو فرمایا لکھ کر دیدو کہ میری رقم جو آئے گی اس میں سے ادا کی جائیگی اور اب میرا وہ بھائی جس سے والد صاحب نے رقم لے کر دی تھی وہ مجھ سے مطالبہ کررہا ہے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا میں اپنے بھائی کی مقروض ہوئی؟ اور والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ میرے مقروض ہوئے؟
اور میرے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا ہے اور میرے والد کے ذمہ جو قرض ہے وہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا ان کے ترکہ میں سے جبکہ بھائی یہ کہتے ہیں کہ یہ تو اس کے ذمہ ہے جس کے ذریعہ سے والد صاحب نے رقم لگوائی تھی۔
صورتِ حال یہ ہے کہ رقم جہاں لگی تھی وہاں سے آئی ہے، اس کے بارے میں سب ورثا کو معلوم ہے اور یہ والد صاحب کی زندگی میں آئی، اس وقت والد صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ یہ رقم تیسرے بیٹے کے اکاؤنٹ میں ڈلوادو، یہ نہیں فرمایا کہ یہ بہن کو دیدو یا دوسرے بیٹے کو، وہ رقم تیسرے بیٹے کے اکاؤنٹ میں ہی آئی بظاہر وہ اپنے عوارضات اور تکالیف کی وجہ سے نہ فرماسکے کچھ آخیر وقت میں یاداشت کا بھی عذر ہوگیا تھا اور آخیر عمر میں عوارضات اور علالت کی وجہ سے میں نے تقاضہ بھی نہیں کیا، البتہ میں نے معاف بھی نہ کئے تھے۔ یہ بات بھی بھائیوں کے علم میں ہے کہ بہن کے پیسے آنے تھے لیکن انہی میں سے بعض حضرات یہ کہتےہیں کہ وہ پیسے ترکہ کے ہیں، معاملہ فہمی پر بات ہوگی، آپ اپنے پیسے اس بھائی سے مانگیں اور بھائی یہ کہتا ہے کہ میں بجھوا چکا ہوں اور یہ بات کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ یہ پیسے بہن اور ان کی بچوں کے ہیں تحریری طور پر بھی اور اعلانیہ بھی۔ آپ حضرات ہماری راہنمائی فرمائیں کہ یہ رقم ہماری بنتی ہےیا ترکہ میں جائے گی اور یہ جو تین سال کا عرصہ گزرا ہے اس کی زکات کا کیا حکم ہے آیا جو استعمال کررہا ہے وہ دیگا یا کسی اور کے ذمہ ہوگی؟
ملحوظہ: ابتداء میں تو معلوم نہیں تھا کہ پیسے کہاں سے دئیے ہیں ، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پیسے فلاں بیٹے سے لے کر دیے ہیں۔ اس کے بعد تحریر بھی لکھوائی کہ جب تمہارے پیسے آئیں گے تو واپسی کروں گی فلاں بیٹے کو، لیکن کسی موقع پر تینوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ایسا کوئی معاملہ قطعًا طے نہیں ہوا کہ والد صاحب نے یہ کہا ہوکہ میں بیچ میں سے نکلتا ہوں اور اس قرض سے اب میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور اب اس قرض کی ادائیگی آپ نے کرنی ہےجسے قرض دینے والے بیٹے نے قبول بھی کیا ہو، ایسی کوئی بات نہیں ہوئی یعنی( ایسی کوئی نشست نہیں ہوئی نہ زبانی اور نہ تحریری)۔
صورتِ مسئولہ میں بیٹے نے چونکہ والد صاحب کو قرض دیاتھا اور بعد میں حوالہ کا عقد بھی تام نہیں ہوا اس لئے مرحوم کا بیٹا اپنی بہن سے والد کو دیئے گئے قرض کا مطالبہ نہیں کر سکتا، البتہ بہن کے ذمہ چونکہ والد مرحوم کا قرض ہے اور بہن کی رقم بھی ابھی تک ادا نہیں کی گئی، لہٰذا بہن کی وصول کردہ رقم اگر اتنی ہی ہے جتنی والد کےپاس انوسٹ کی گئی تھی تو اس رقم کے تیسرے بیٹے کے اکاؤنٹ میں آنے پردونوں کا مقاصہ ہوگیا اور کسی کے ذمہ کچھ نہ رہے گا اور اگر فرق ہو تو ورثا اس فرق کا لین دین کرلیں۔
مقاصہ سے پہلے انوسٹ کی ہوئی رقم بیٹی کی ملکیت تھی جس پر زکات اداکرنا بیٹی پر لازم تھا البتہ قابل زکات مال میں سے کل واجب الاداء قرضہ بھی منہا کیاجائے گا۔
بدائع الصنائع (6/ 16) دار الكتب العلمية
(وأما) الذي يرجع إلى المحال فأنواع: … (ومنها) : الرضا على لو احتال مكرها؛ لا تصح؛ لما ذكرنا. (ومنها) : مجلس الحوالة وهو شرط الانعقاد عند أبي حنيفة ومحمد، وعند أبي يوسف شرط النفاذ، حتى أن المحتال لو كان غائبا عن المجلس، فبلغه الخبر فأجاز؛ لا ينفذ عندهما، وعند أبي يوسف ينفذ، والصحيح: قولهما؛ لأن قبوله من أحد الأركان الثلاثة؛ فكان كلامهما بدون شرط العقد؛ فلا يقف على غائب عن المجلس – كما في البيع۔
البحر الرائق (6/ 268) دار الكتاب الإسلامي
ومنها مجلس الحوالة وهو شرط الانعقاد في قولهما خلافا لأبي يوسف فإنه شرط النفاذ عنده فلو كان المحتال غائبا عن المجلس فبلغه الخبر فأجاز لم ينعقد عندهما خلافا له والصحيح قولهما۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 533)
قال: وإذا طلبت المرأة من القاضي أن يفرض لها النفقة وعلى زوجها وكان للزوج على المرأة دين فقال الزوج: احسبوا لها نفقتها منه كان له ذلك، لأن الدينين من جنس واحد فتقع المقاصة كما في سائر الديون، إلا أن في سائر الديون تقع المقاصة تقاصا أو لم يتقاصا، وههنا تحتاج إلى رضا الزوج لوقوع المقاصة، وإنما كان هكذا لأن دين النفقة أنقص من سائر الديون، فإن سائر الديون لا تسقط بالموت، ودين النفقة يسقط۔
رد المحتار(5/ 265)سعید
والحاصل أن الدين إذا حدث بعد الصرف، فإن كان بقرض أو غصب وقعت المقاصة وإن لم يتقاصا وإن حدث بالشراء بأن باع مشتري الدينار من بائع الدينار ثوبا بعشرة إن لم يجعلاه قصاصا لا يصير قصاصا باتفاق الروايات ومن مسائل المقاصة ما لو كان للمودع على صاحب الوديعة دين من جنسها لم تصر قصاصا به إلا إذا اتفقا عليه وكانت في يده أو رجع إلى أهله فأخذها والمغصوب كالوديعة، وكذلك لا تقع المقاصة ما لم يتقاصا لو كان الدينان من جنسين أو متفاوتين في الوصف، أو مؤجلين أو أحدهما حالا والآخر مؤجلا أو أحدها غلة والآخر صحيحا كما في الذخيرة. وإذا اختلف الجنس وتقاصا كما لو كان له عليه مائة درهم وللمديون مائة دينار عليه فإذا تقاصا تصير الدراهم قصاصا بمائة من قيمة الدنانير ويبقى لصاحب الدنانير على صاحب الدراهم ما بقي منها ظهيرية ودين النفقة للزوجة لا يقع قصاصا بدين للزوج عليها إلا بالتراضي، بخلاف سائر الديون؛ لأن دين النفقة أدنى، فروق الكرابيسي اهـ ملخصا، قال: وتقدم شيء من مسائل المقاصة في باب أم الولد۔
رد المحتار (5/ 514)سعید
(قوله نعم تقع المقاصة) فلو كان للمشتري على الموكل تقع المقاصة بمجرد العقد بوصول الحق إليه بطريق التقاص، ولو كان له دين عليهما تقع المقاصة بدين الموكل دون دين الوكيل، ولو كان له دين على الوكيل فقط وقعت المقاصة به ويضمن الوكيل للموكل؛ لأنه قضى دينه بمال الموكل۔
شرح مختصر الطحاوي للجصاص (2/ 342) دار البشائر الإسلامية
والنصاب المتفق عليه هو اجتماع الملك واليد جميعا، فإذا انفرد الملك عن اليد، فهو نصاب مختلف في أنه نصاب، فلم نثبته إلا من الجهة التي بها يصح إثبات النصاب، كالميراث لم يملك إلا وهو دين، وكذلك المهر ونظائره، فلم يحصل إثباته إلا بالقبض، فحينئذ يعتد بالحول۔
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 114) المطبعة الخيرية
كل دين له مطالب من جهة العباد فإنه يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد أو لله تعالى كدين الزكاة فالذي له مطالب من جهة العباد كالقرض وثمن المبيع وضمان المتلف وأرش الجراحة والمهر وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وسواء وجب بنكاح أو خلع أو صلح عن دم عمد وهو حال أو مؤجل۔